29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

جامعہ سلیمیہ انوار تاج الشریعہ للبنات کا روح پرور مشاہدہ

مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ Post Date: 2026-08-02

جامعہ سلیمیہ انوار تاج الشریعہ للبنات کا روح پرور مشاہدہ

جامعہ سلیمیہ انوارِ تاج الشریعہ للبنات، کمرہٹی کولکاتا 58 کا ایمان افروز اور روح پرور مشاہدہ


نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم


یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہو جائے

کہ ہر پرچم سے اونچا پرچمِ اسلام ہو جائے


اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں ایک عظیم نعمت یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو ایسے مقامات کی زیارت اور ایسے نفوسِ قدسیہ کی معیت عطا فرماتا ہے جہاں علم و عرفان کی شمعیں فروزاں ہوں، جہاں قرآن و سنت کی خوشبوئیں مہکتی ہوں، جہاں نسلِ نو کی دینی، اخلاقی اور روحانی تعمیر خاموشی کے ساتھ جاری ہو، اور جہاں امتِ مسلمہ کا روشن مستقبل پروان چڑھ رہا ہو۔ ایسے لمحات محض مشاہدات نہیں بلکہ زندگی بھر کے لیے ایمان افروز یادگار بن جاتے ہیں۔


آج مورخہ 31 جولائی 2026 بروز جمعہ، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد آلِ رسول، فرزندِ بتول، حضرت علامہ سید شاہ ارشد افضلی صاحب قبلہ مدظلہ النورانی، سجادہ نشین خانقاہِ افضلیہ نوادہ، بہار کی تشریف آوری دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ، قادری سمنانی دارالافتا، تلجلا روڈ، کولکاتا میں ہوئی۔ اس بابرکت آمد نے ادارے کے ماحول کو نور و سرور سے معمور کر دیا۔


دارالعلوم کے اساتذۂ کرام، طلبۂ عظام اور وابستگانِ ادارہ نے نہایت عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ حضرت سید صاحب قبلہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ حضرت نے انتہائی شفقت کے ساتھ طلبہ کی تعلیمی استعداد کا جائزہ لیا، درس و تدریس کے معیار کو ملاحظہ فرمایا، انتظامی نظام کا بغور مشاہدہ کیا اور آخر میں اپنے قیمتی ارشادات، دعاؤں اور حوصلہ افزا کلمات سے نوازا۔ ان کی دعائیں اہلِ ادارہ کے لیے سرمایۂ افتخار اور باعثِ سعادت ہے۔


نمازِ عصر کے بعد راقم الحروف، فقیر اشرفی، حضرت سید شاہ ارشد افضلی صاحب قبلہ کی معیت میں شہرِ نشاط کولکاتا کے ممتاز عالمِ دین، خلیفۂ حضور تاج الشریعہ، حضرت علامہ مفتی محمد مختار عالم رضوی صاحب قبلہ کے زیرِ انتظام عظیم دینی مراکز کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔


یہ دونوں ادارے اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت منفرد، منظم اور مثالی ہیں۔ ایک مدرسہ سلیمیہ فیض الاسلام ہے جہاں طلبۂ کرام علومِ دینیہ سے فیض یاب ہو رہے ہیں، جب کہ دوسرا جامعہ سلیمیہ انوارِ تاج الشریعہ للبنات ہے جو اسلامی شہزادیوں کی دینی تعلیم و تربیت کا ایک روشن مینار ہے۔


حضرت مفتی محمد مختار عالم رضوی صاحب قبلہ نے جس اخلاص، بصیرت، تدبر اور حسنِ انتظام کے ساتھ مع اراکین ان اداروں کی بنیاد رکھی اور انھیں ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے، وہ حقیقتاً لائقِ تحسین ہے۔ ادارے کے ہر گوشے سے نظم و ضبط، حسنِ ترتیب اور احساسِ ذمہ داری کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اینٹوں سے عمارتیں نہیں بلکہ اخلاص، تقویٰ، خدمتِ دین اور عشقِ رسول ﷺ سے ایک عظیم علمی و روحانی ماحول تعمیر کیا گیا ہے۔


جامعہ سلیمیہ انوارِ تاج الشریعہ للبنات کا مشاہدہ خصوصیت کے ساتھ دل کو بے حد مسرور کرنے والا رہا۔ طالبات کی تعلیم و تربیت، ان کی دینی و اخلاقی آبیاری، معلمات کی محنت، انہماک، احساسِ ذمہ داری اور علمی ذوق قابلِ رشک ہے۔ ہر معلمہ اپنے فرائض کو محض ملازمت نہیں بلکہ عبادت اور خدمتِ دین سمجھ کر انجام دیتی محسوس ہوئی۔ یہی وہ جذبہ ہے جو اداروں کو دوام اور قبولیت عطا کرتا ہے۔


صفائی، نفاست اور حسنِ انتظام اس ادارے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ ہر شعبہ اپنے اندر بہترین نظم و ضبط کی تصویر پیش کرتا ہے۔ طلبہ اور طالبات کے لیے الگ الگ معیاری اور متوازن طعام کا انتظام کیا گیا ہے۔ دارالاقامہ میں ہر طالبہ کے لیے اسٹیل کا علیحدہ تخت فراہم کیا گیا ہے، جو مدارسِ اسلامیہ میں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس سے ادارے کی انتظامی سنجیدگی، طلبہ و طالبات کی سہولت پسندی اور معیاری رہائشی نظام کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔


دونوں اداروں میں دورۂ حدیث تک تعلیم دی جاتی ہے۔ مدرسہ سلیمیہ فیض الاسلام میں تقریباً ڈیڑھ سو طلبہ اقامت پذیر ہیں جبکہ جامعہ سلیمیہ انوارِ تاج الشریعہ للبنات میں تقریباً چار سو طالبات رہائشی حیثیت سے علومِ نبویہ حاصل کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی طالبات کی بھی بڑی تعداد زیورِ علم سے آراستہ ہو رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار خود اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ادارے پر عوام کا اعتماد روز افزوں ہے اور لوگ اپنی نسلوں کی دینی تعلیم کے لیے اسے ایک محفوظ اور معتبر مرکز تصور کرتے ہیں۔


سربراہ اعلی صاحب قبلہ کے اصرار پر طالبات سے چند درسی سوالات بھی کیے گئے۔ پردے کے مکمل اہتمام کے ساتھ طالبات نے جس اعتماد، فہم، علمی پختگی اور اطمینان کے ساتھ جوابات دیے، وہ نہایت خوش آئند منظر تھا۔ ان کے مدلل اور درست جوابات سن کر دل باغ باغ ہو گیا اور بے اختیار دعائیں لبوں پر آگئیں کہ اللہ تعالیٰ ان طالبات کو دین و ملت کا عظیم سرمایہ بنائےاور طالبان علوم دینیہ کو بھی محافظ شریعت اسلامیہ بناۓ۔


یہ منظر اس حقیقت کا زندہ ثبوت تھا کہ اگر مخلص قیادت، صالح اساتذہ، باکردار معلمات اور منظم نظام میسر آ جائے تو ہماری بیٹیاں بھی علومِ نبویہ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں اور آئندہ نسلوں کی بہترین دینی تربیت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔


ادارے کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو یہ بھی ہے کہ پورے کیمپس کی نگرانی جدید سی سی ٹی وی نظام کے ذریعے کی جاتی ہے، جب کہ تمام ضروری مقامات پر معیاری ایئر کنڈیشننگ کا بھی انتظام موجود ہے۔ یوں دینی ماحول اور جدید انتظامی سہولیات کا حسین امتزاج اس ادارے کو ایک منفرد شناخت عطا کرتا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ مدارسِ اسلامیہ صرف درسگاہیں نہیں بلکہ امت کی روحانی، فکری اور تہذیبی بقا کے مضبوط قلعے ہیں۔ یہی وہ مراکز ہیں جہاں سے علما، مفتیانِ کرام، محدثین، خطبا، ائمہ، داعیانِ اسلام اور قوم و ملت کے مخلص قائدین تیار ہوتے ہیں۔ یہی ادارے دینِ اسلام کی حفاظت، مسلکِ اہلِ سنت یعنی مسلک اعلی حضرت کی اشاعت، ملی تشخص کی بقا اور معاشرے کی اخلاقی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی خدمات وقتی نہیں بلکہ نسلوں پر محیط ہوتی ہیں۔


یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ادارے کی ترقی محض وسائل سے نہیں بلکہ اخلاص، استقامت، حسنِ اخلاق، حسنِ انتظام اور شبانہ روز محنت سے وابستہ ہوتی ہے۔ حضرت علامہ مفتی محمد مختار عالم رضوی صاحب قبلہ نے مع مدرسین جس اخلاص اور خلوص کے ساتھ ان اداروں کی آبیاری کی ہیں، وہ ان کی علمی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور دینی درد کا روشن ثبوت ہے۔ بلاشبہ یہ سب بزرگانِ دین، بالخصوص حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی دعاؤں، فیوض و برکات اور اکابرین کی روحانی عنایتوں کا فیضان بھی ہے۔


جب واپسی کا وقت آیا تو حضرت مفتی صاحب قبلہ نے نہایت عجز و انکسار کے ساتھ حضرت سید شاہ ارشد افضلی صاحب قبلہ سے اداروں کی ترقی، قبولیت، استحکام اور مزید خیر و برکت کے لیے خصوصی دعا کی درخواست کی۔ حضرت سید صاحب قبلہ نے نہایت محبت، شفقت اور قلبی انہماک کے ساتھ طویل دعائیں فرمائیں اور ادارے کے ذمہ داران، اساتذہ، معلمات، طلبہ، طالبات اور معاونین سب کے لیے خیر و برکت کی دعا کی۔


اللہ رب العزت اپنے محبوبِ مکرم سیدِ عالم ﷺ، اہلِ بیتِ اطہار، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیائے کاملین کے وسیلے سے مدرسہ سلیمیہ فیض الاسلام اور جامعہ سلیمیہ انوارِ تاج الشریعہ للبنات کو دن دگنی، رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، ان اداروں کو ہمیشہ حق و صداقت، علم و عمل، اخلاص و تقویٰ اور خدمتِ دین کا روشن مینار بنائے رکھے، یہاں کے اساتذہ، معلمات، طلبہ و طالبات اور ذمہ داران کو اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے، اور ان اداروں سے ایسے رجالِ علم اور ایسی صالحاتِ امت پیدا فرمائے جو پوری دنیا میں اسلام، سنت اور مسلکِ اہلِ سنت کے روشن چراغ بن کر امت کی رہنمائی کریں۔


اللَّهُمَّ آتِنَا عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا صَالِحًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا، وَاجْعَلْنَا مِنْ خُدَّامِ دِينِكَ، بِجَاهِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ ﷺ. آمين يا رب العالمين۔


محمد وسیم خان اشرفی جالوی

چیئرمین قطبیہ ایجوکیشنل، کولکاتا

ناظمِ اعلیٰ دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ، کولکاتا

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A