رفعت غوث بزبان غوث
پیران پیر روشن ضمیر حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت تک میرے دوستوں اور میرے مریدوں میں سے جو کوئی ٹھوکر کھائے گا تو میں اس کا ہاتھ پکڑ لوں گا۔ کسی نے پوچھا آپ کے مریدوں میں سے پر ہیز گار اور گنہگار دونوں ہی ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: پرہیز گار میرے لئے ہیں اور گنہگاروں کے لئے میں ہوں۔ { قلائد الجواہر اردو ص : ،٢٤ سفینه الاولیاء }
مريدي لا تخف الله ربي
عطاني رفعة نلت المعالي
اے میرے مرید خوف نہ کر اللہ ہی میرا رب ہے مجھے ایسی رفعت عطا کی جس سے میں اور بلندی حاصل کرتا ہوں۔
افلت شموس الاولين شمسنا
ابدا على فلك العلى لا تغرب۔
سارے سورج بجھ گئے اور ہمارا سورج آسمان کی بلندیوں پر ہمیشہ روشن رہےگا، کبھی نہ ڈوبے گا۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے جملہ اقطاب پر حاکم بنایا ہے ، پس میرا حکم ہر حال میں جاری اور نافذ ہے۔
ولو القیتُ سِرّي فوقَ نارٍ
لَخَمِدَتْ و انطفتْ مِنْ سِرِّ حالي۔
اگرمیں اپنا راز آگ پر ڈال دوں تو وہ میرے راز سے بُجھ کر بالکل سَرد ہو جاۓ
ولو القیتُ سرّي فوقَ میتٍ
لَقامَ بِقدرةِ المولیٰ تعالي۔
اگر میں اپنے راز کو مُردے پر ڈال دوں تو وہ فوراً اللہ تعالی کی قدرت سے کھڑا ہو جاۓ۔
وما منها شهورا او دهورا
تمر و تنقضي الا اتاني۔
دنیا میں کوئی مہینہ یا زمانہ نہیں ہے جو گزرتا ہو اور ختم ہوتا ہو مگر وہ مجھے اپنی خبر پیش کرتا ہے۔
لولا لجام الشريعة على لساني لا خبرتكم بما تأكلون وما تدخرون في بيوتكم انتم بين يدي كالقوارير ما في بواطنكم وظواهر كم۔
{ بہجۃ الاسرارص: ۲۴ }
اگر شریعت کی لگام میری زبان پر نہ ہوتی تو میں تمہیں خبر دیتا جو کچھ تم گھروں میں کھاتے ہو اور چھپا کر رکھتے ہو۔ تم میرے نزدیک ایسے ہو جیسے کوئی شیشہ گر کہ اس کو باہر والی چیز بھی اور اندر والی چیز بھی نظر آتی ہے۔
طبقات الکبریٰ میں غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی نقل ہے کہ " جس مسلمان کا میرے مدرسے سے گزر ہوا قیامت کے روز اس کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ (طبقات الکبریٰ ، جلد اول)
وصال پر ملال
آپ کے وصال کی تاریخ میں بہت زیادہ مختلف قول ہیں۔ امام حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور امام یافعی نے مرآۃ الجنان میں اور مولانا عبد الرحمن جامی نے نفحات الانس میں صرف سال تحریر کیا ہے۔ دن یا تاریخ اور مہینہ کا ذکر نہیں کیا۔ بعض رسالوں میں 10, 11, 13 ربیع الثانی بھی لکھی ہے۔
سید ابو المعالی خیر الدین المتوفی 1024 ھ نے اپنی کتاب تحفہ قادریہ میں لکھا ہے کہ 17 ربیع الثانی 561 ھ میں رحلت فرمائی ۔ اور زیادہ صحیح یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ بغداد شریف میں آپ کا عرس شریف معتمد بہ ذرائع سے پتہ چلا کہ 17 ربیع الثانی کو ہوتا ہے۔ بلا شبہ حضور غوث پاک کی عقیدت و محبت ایک انمول تحفہ ہے اور آپ کی الفت ومودت "سيجعل له الرحمن ودا" کے تحت ایمان کی ایک نشانی ہے۔ جس مسلمانوں کے دل کل بھی سرشار تھے اور آج بھی اور ان شاء اللہ تا قیامت معمور منور رہیں گے۔
عقیدت مند بالخصوص ماہ ربیع الثانی کی گیارہویں تاریخ کو آپ کا فاتحہ دلاتے ہیں۔ یہ فاتحہ جو گیارہویں شریف کے نام سے مشہور و معروف ہے در حقیقت یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت و نوازش ہے۔ مختلف اقوال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک قول نقل کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔
حضرت علامہ امام یافعی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنی کتاب قرۃ الناظر میں لکھا ہے کہ ایک دفع سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فاتحہ دلایا وہ فاتحہ اس قدر مقبول خاص و عام ہوا کہ آپ نے ہر ماہ کی گیارہویں تاریخ کو یہ فاتحہ مقرر کر دی۔ آہستہ آہستہ یہ عمل آپ کی طرف منسوب ہو گیا۔ گیارہویں شریف ایصال ثواب کا ایک بہترین طریقہ ہے اور ایصال ثواب پر علماء سلف و خلف کا اجماع چلا آیا ہے۔ متعدد احادیث مبارکہ اور اقوال فقہاء سے اس کا جائز و مستحسن ہونا ثابت ہے۔ کچھ لوگ بدعت اور شرک کی آڑ میں ہر نیک کام کو حرام کر دیتے ہیں حالانکہ وہ خود شرک و بدعت کی تعریف سے واقف نہیں۔ ہر وہ عمل جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی کے بعد پیش آئے اس کی دو صورتیں ہوں گی یا تو قرآن وسنت کے مطابق ہوگا یا خلاف اگر مطابق ہے تو بدعت حسنہ (اچھی بدعت ) ہے ۔ اگر خلاف ہوگا تو بدعت سیئہ ( بری بدعت ) کہلائے گا۔ ذرا غور کیجئے ختم گیارہویں شریف میں کون سا کام خلاف قرآن و سنت ہے؟ ختم گیارہویں میں محفل نعت خوانی، حضور غوث پاک کے فضائل مناقب بیان کئے جاتے ہیں اور مسائل شرعیہ نشر کئے جاتے ہیں بلا شبہ یہ سب جائز ہیں۔ طعام و شیرینی وغیرہ حاضرین میں تقسیم کی جاتی ہے یہ بھی بلا کراہت کار خیر ہے۔ اگر اسے نا جائز تسلیم کر لیا جائے تو وہ اکابر اسلام جو علم حدیث ہندوستان میں لائے ، جنھیں آسمان ملت پر دین ہدی کے درخشندہ ستارے بتایا گیا مثلاً خود حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
: وقد اشتهر في ديارنا هذا اليوم الحادي عشر وهو المتعارف عند مشائخنا من اهل الهند من اولاده - - بے شک ہمارے ملک ہندوستان) میں آج کل گیارہویں شریف مشہور ہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولا دو مشائخ میں متعارف ہے۔ - ( ما ثبت بالسنه عربی ص: ۶۸ )
حضرت اور نگ زیب عالمگیری علیہ الرحمہ بادشاہ کے استاد ملا جیون علیہ الرحمہ جن کی کتاب نور الانوار آج بھی درس میں شامل ہے، انہیں کے صاحب زادے علامہ فیض عالم علیہ الرحمہ اپنی کتاب وجیز الصراط فارسی ص: ۸۲ پر لکھتے ہیں: عاشوراء کے روز لوگ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے لئے کھانا تیار کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی نیاز کا ثواب ان کی روح پر فتوح کو پہنچاتے ہیں۔ اور اسی قسم میں سے گیارہویں شریف کا کھانا ہے۔ جو کہ غوث الثقلین حضور شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کا عرس مبارک ہے، دیگر مشائخ کا عرس سال کے بعد ہوتا ہے اور حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس ہر ماہ ہوتا ہے۔
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کہتے ہیں: پس یہ مروجہ ایصال ثواب کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور گیارہویں حضرت غوث پاک قدس سرہ کی ، دسویں ،
بیسویں، چہلم ، ششماہی، سالانہ وغیرہ اور توشہ حضرت شیخ عبد الحق ردولوی علیہ الرحمہ اور سہ منی حضرت بو علی شاہ قلندر علیہ الرحمه وحلوه شب برأت اور دیگر طریق ایصال ثواب کے قاعدے پر بنی ہیں۔ (فیصلہ ہفت مسئلہ ص: ۸)
ان شواہد و دلائل کے پیش نظر ان بزرگان دین کو بھی بدعت اور مذہب میں رخنہ انداز کہا جائیگا۔ کیونکہ یہ حضرات بھی گیارہویں وغیرہ کے قائل ہیں۔
رشید احمد گنگوہی کا قول ہے کہ ایصال ثواب کی نیت سے گیارہویں و تو شہ کرنا درست ہے۔ (فتاوی رشید یه ص ۵۲۰ جلد اول مطبوعہ دہل و مطبوعہ کراچی)
مگر ہم اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ گیارہویں شریف نہ فرض نہ واجب نہ سنت مؤکدہ ہے بلکہ کار خیر ، قرب خداوندی کا ذریعہ ہے۔ اور بزرگان دین کا معمول ہے جس سے لوگ خیر و برکت حاصل کرتے ہیں۔ اور نہ کرنے والے پر کوئی مواخذہ نہیں۔ اہل سنت کے لئے تعین یوم یا تعین تاریخ کوئی ضروری نہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ گیارہویں شریف گیارہ تاریخ کو کی جائے گی تو ہوگی ورنہ نہیں ۔ یہ کسی بھی اہل سنت کی کتاب میں نہیں۔ جب بھی ایصال ثواب کیا جائے گا جائز ہے۔ لیکن احباب کی آسانی کے لیے سلف صالحین اور بزرگان دین کے طریقوں کو اپناتے ہوئے دن یا تاریخ کا تعین کیا جاتا ہے۔
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.