کلام عاشقانہ، طفیل نبی از طفیل صحابہ
مقدر کا میرے بھی چمکا ستارہ
طفیل نبی از طفیل صحابہ
بنا میں بھی مہمان، بیت خدا کا
طفیل نبی از طفیل صحابہ
کہاں مجھ سا عاصی، کہاں تیرا گھر ہے
کہاں ناتواں میں، کہاں پاک در ہے
میں آیا ہوں بس تیری رحمت کے صدقے
مجھے پاک ستھرا بنا میرے مولی
طفیل نبی از طفیل صحابہ
بلایا ہے مجھ کو یہ تیرا کرم ہے
سراپا میں مجرم کہاں وہ حرم ہے
میں عاصی ہی عاصی تو رحمت ہی رحمت
خطا بخش دے اور بنا نیک بندہ
طفیل نبی از طفیل صحابہ
مجھے خود پہ حیرت ہی حیرت ہے واللہ
سراپا گناہوں میں لت پت ہے، واللہ
مگر تجھ سے امید رحمت ہے واللہ
مجھے بخش دے بخش دے میرے مولی
طفیل نبی از طفیل صحابہ
وہ ہے سنگ اسود یہ ہے ہاتھ میرا
اسے خلد سے تیرے آدم نے لایا
لیا اس کا بوسہ شہ انبیا نے
میں چوموں اسے باادب میرے مولی
طفیل نبی از طفیل صحابہ
صفا کی بلندی یہ مروہ کی رفعت
کلام خدا میں بھی ہے جس کی عظمت
اسے سیدہ ھاجرہ سے ہے نسبت
وہاں سَعْیِ کا مجھ کو موقع دے مولی
طفیل نبی از طفیل صحابہ
زباں ، تیری حمد و ثنا سے رہے تر
ترے در کے آگے جھکے یہ مرا سر
صدا کان میں گونجے اللہ اکبر
حرم میں یوں ہی ہو بسر لمحہ لمحہ
طفیل نبی از طفیل صحابہ
یہ مکہ کی وادی یہ میزاب رحمت
میں کرتا رہوں ہر دم اس کی زیارت
کہاں میری آنکھیں کہاں اس کی رفعت
منور ہو دل اور دے عشق اپنا
طفیل نبی از طفیل صحابہ
وہ کعبے کی رونق وہ کعبے کا رتبہ
حسیں اس کے لمحے حسیں اس کا جلوہ
وسیم حزیں کو میسر ہو اس میں
عبادت ریاضت کا نورانی لمحہ
طفیل نبی از طفیل صحابہ
از محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ، مسجد محبوب رحمانی، کولکاتا
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.