شہ کون و مکاں ہے ، تاجدار جن و انساں ہے
حبیب ربّ کعبہ ہے وہی فخر رسولاں ہے
سر محشر اسی سے، ساری امیدیں ہیں وابستہ
شفیع عاصیاں ہے اپنی امت کا نگہباں ہے
وہ پہلا نور ہے نور الھدی کونین کی خاطر
ضیا سے جس کی تابندہ ، حریم بزم امکاں ہے
بجز عشق ِ رسالت، کوئی مؤمن ہو نہیں سکتا
"محمد کی محبت باعثِ تکمیل ایماں ہے"
امام الانبیا ہیں وہ فرشتے ان کے خادم ہیں
ہر اک خوبی انہی کی ذاتِ با برکت میں پنہاں ہے
لواء الحمد کے سائے میں تھوڑی سی جگہ دےدیں
سر محشر یہی ہر امتی کے دل کا ارماں ہے
نسیم خلد نے چھیڑی ہیں باتیں نور و نکہت کی
منور سارا عالم ہے معطر بزم جاناں ہے
کسی مخلوق سے کیسے ہو مدحت شاہ خوباں کی
کلامِ ربِّ اکبر خود ہی جب ان کا ثنا خواں ہے
وہ کاشانہ جہاں ان کی ثنا خوانی نہیں ہو تی
وہ کاشانہ نہیں ہے اصل میں شہر خموشاں ہے
ملائک در پہ آتے ہیں سلامی پیش کرنے کو
جلیل القدر اس درجہ درِ محبوبِ رحماں ہے
دماغ و دل کی یکسوئی میسر ہو اسے مولا
وسیم اشرفی جس کے لئے مدت سے کوشاں ہے
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.