29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

قيادتِ نورى ميں بزمِ نور

مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ Post Date: 2026-09-18

قيادتِ نورى ميں بزمِ نور

*قیادتِ نوری میں بزمِ نور*

دنیاے رنگ و بو میں ہر روز انسان آتے ہیں اور اپنی مقررہ مدتِ حیات پوری کرکے رخصت ہوتے جاتے ہیں۔ یہ کاروانِ حیات ازل سے رواں ہے اور ابد تک رواں رہے گا۔ زندگی خالقِ کائنات کی عطا کردہ عظیم نعمت ہے، مگر اس نعمت کا حقیقی حسن اس بات میں مضمر ہے کہ انسان اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور اپنے وجود کو کس طرح دوسروں کے لیے نفع بخش بناتا ہے۔ کسی کی زندگی کا محور صرف اپنی ذات ہوتی ہے؛ اس کی تمام تر فکر اپنی آسائش، آرائش، راحت اور مادی ترقی تک محدود رہتی ہے۔ اسے یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ شاہانہ زندگی کیسے بسر ہو، نفیس لباس کیسے میسر آئے، لذیذ کھانے کیسے حاصل ہوں، عمدہ سواریاں کیسے نصیب ہوں اور عالیشان محلات و مکانات کیسے تعمیر کیے جائیں۔

بلاشبہ دنیاوی ترقی اور مادی آسائش اپنی جگہ انسانی زندگی کا ایک حصّہ ہیں، لیکن اگر زندگی کا مقصد صرف ذات تک محدود ہوجائے تو انسان بظاہر کتنا ہی کامیاب کیوں نہ ہو، اس کی شخصیت کا دائرہ تنگ اور اس کے وجود کی معنویت محدود ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگ دنیا کے ہجوم میں اپنی شناخت تو بنا لیتے ہیں، مگر دلوں میں وہ جگہ نہیں بنا پاتے جو ایثار، اخلاص اور خدمت سے پیدا ہوتی ہے۔

اس کے بالمقابل ایک دوسرا گروہ ان نفوسِ قدسیہ کا ہے جن کا جینا دوسروں کے لیے ہوتا ہے۔ وہ اپنی خوشی میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں، کسی مصیبت زدہ کی مشکل کشائی کو سعادت سمجھتے ہیں، کسی بیمار کے لیے علاج و معالجے کا انتظام کرتے ہیں، کسی غریب کے گھر کا چولہا جلانے میں اپنا سرمایہ صرف کرتے ہیں اور کسی درد مند کے دکھ کا مداوا کرکے اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کو اپنی زندگی کی کامیابی تصور کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قابلِ رشک زندگی وہی ہے جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ خلقِ خدا کے لیے وقف ہو؛ جس کے دامن میں اپنی راحت کے ساتھ دوسروں کی راحت بھی ہو، اپنی خوشی کے ساتھ دوسروں کی خوشی بھی ہو اور اپنی کامیابی کے ساتھ قوم و ملت کی سربلندی کا جذبہ بھی ہو۔

موجودہ عہد میں مجمعِ محاسن، صاحبِ اوصافِ حمیدہ، محبوب العلماء، ناصرِ قوم و ملت، عطائے مفتیِ اعظم و دعائے شہزادۂ اعلیٰ حضرت، خلیفۂ بہار الہند، سرپرستِ مدارسِ کثیرہ، حضرت علامہ و مولانا الحاج الشاہ محمد روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ، بانیِ قرأت اکیڈمی و ڈائرکٹر دارالترجمہ والنشر، ناظمِ تعلیمات دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کولکاتا کی ذاتِ گرامی بھی انھی قابلِ رشک شخصیات میں شمار ہوتی ہے جنھوں نے اپنی زندگی کے شب و روز کو دین، ملت، تعلیم، تربیت، خدمت اور اصلاح کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

حضرت علامہ روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ آپ جہاں تشریف لے جاتے ہیں، وہاں محض ایک محفل کی رونق نہیں بڑھاتے بلکہ دلوں میں حرکت، فکر میں وسعت اور عمل میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ آپ کی گفتگو میں خیر کی دعوت، آپ کی نشست میں اخلاص کی خوشبو اور آپ کی عملی زندگی میں خدمتِ خلق کا روشن نمونہ جلوہ گر دکھائی دیتا ہے۔ آپ جس بستی، شہر یا ادارے میں جاتے ہیں، وہاں کے لوگوں میں دینی، اسلامی، قومی، ملی اور سماجی خدمات کا جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی مخلصانہ اور ہمہ جہت جذبۂ خدمت کا نتیجہ ہے کہ ایسے مقامات پر بھی مدارس و مکاتب کا قیام عمل میں آیا جہاں چند برس قبل دینی و تعلیمی اداروں کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ نئی نسل کے علماے کرام میں کام کرنے کا جذبہ پیدا کرنا، انہیں حوصلہ دینا، ان کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا بھی حضرت نوری صاحب قبلہ کا ایک قابلِ قدر وصف ہے۔ آپ نوجوان علما کو صرف نصیحت نہیں کرتے بلکہ انہیں اعتماد، حوصلہ اور عملی تعاون بھی عطا فرماتے ہیں۔

شہرِ نشاط کولکاتا میں روحانی اسفار، بالخصوص زیارتِ حرمین شریفین، بغدادِ معلیٰ اور نجفِ اشرف جیسے مقدس مقامات کی زیارت کا جو حسین اور مبارک سلسلہ آج کل جاری ہے، اس میں بھی حضرت علامہ روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ کی محنت، ترغیب اور اخلاص کا ایک نمایاں حصہ دکھائی دیتا ہے۔ آپ نے لوگوں کے دلوں میں زیارتِ مقدسات کی محبت پیدا کی اور انہیں اس سعادت کے حصول کی طرف متوجہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد نے عمرہ، حج اور زیارتِ بغداد و نجف کا عزم کیا۔

میں مجمعِ محاسن، محبوب العلماء، حضرت علامہ الحاج روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ کی بے لوث رفاہی، فلاحی، دینی اور ملی خدمات پر بصمیمِ قلب انہیں اور ان کی پوری ٹیم کو ہدیۂ تبریک و تحسین پیش کرتے ہوئے دلی مسرت محسوس کر رہا ہوں۔ معاشرے کے بے سہارا، غریب، مستحق اور ضرورت مند طبقات کی دادرسی کے لیے مولانا نوری صاحب قبلہ جس اخلاص، محبت اور جذبۂ خدمت کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔

بحمدہ تعالیٰ! خدمتِ خلق کا یہ جذبہ محض ایک سماجی سرگرمی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

یعنی: ’’اور بھلائی کرو، بے شک اللہ بھلائی کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔‘‘

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ

یعنی: ’’بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔‘‘

مخلوقِ خدا کی مشکلات کو آسان کرنے والوں کے فضائل بیان کرتے ہوئے نبیِ معظم، نورِ مجسم، شافعِ محشر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

۔

مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۔

یعنی جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور فرمائے گا۔

(صحیح مسلم)

اسی طرح رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا:

وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔

یعنی جو شخص کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔

(صحیح مسلم)

اور ارشادِ نبوی ﷺ ہے:

وَالله فِي عَوْنِ الْعَبْدِ، مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ۔

یعنی اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔

یہی وہ روحِ خدمت ہے جو حضرت علامہ روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ کی سرگرمیوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ کی قیادت میں منعقد ہونے والی محافل محض رسمی اجتماعات نہیں بلکہ فکر و عمل کی نئی راہیں کھولنے والی بزمیں بن جاتی ہیں۔

آج مورخہ 17 ستمبر 2026ء، بروز جمعرات قرأت اکیڈمی، دارالترجمہ والنشر میں جشنِ غوث الوریٰ و استقبالیۂ زیارتِ حرمین شریفین و بغدادِ معلیٰ کے عنوان سے ایک نہایت شاندار، پُروقار اور روح پرور تقریب منعقد ہوئی۔

یہ بابرکت تقریب مجمعِ محاسن، صاحبِ اوصافِ کثیرہ حضرت علامہ و مولانا الحاج محمد روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ کی قیادت و سرپرستی میں منعقد ہوئی، جبکہ خلیفۂ تاج الشریعہ حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد افضل حسین مصباحی صاحب قبلہ نے صدارت فرمائی۔

محفل میں کثیر تعداد میں علماے کرام، مفتیانِ عظام، قرّاء، شعراے اسلام، نقبا اور معزز شخصیات نے شرکت فرمائی۔ جن حضرات نے اپنی شرکت سے محفل کو وقار بخشا، ان میں بالخصوص صاحبِ قرطاس و قلم حضرت علامہ ملک شبیر عالم مصباحی رضوی صاحب، شہنشاہِ خطابت حضرت علامہ غلام آسی مصباحی رضوی صاحب، واعظِ دین حضرت علامہ و مولانا غلام ربانی فیضی صاحب، صدر امام فاؤنڈیشن کولکاتا، اسیرِ تاج الشریعہ حضرت علامہ مشاہد حسین رضوی صاحب، حضرت علامہ و مولانا مشرف حسین رضوی صاحب، حضرت علامہ احمد رضا مصباحی رضوی صاحب، حضرت علامہ مفتی محمد رقیب سنجر مصباحی صاحب ناظم تعلیمات جامعہ عبد اللہ بن مسعود، حضرت علامہ قاری نیر القمر اشرفی رحمانی صاحب، حضرت حافظ و قاری ساجد رضا صاحب، حضرت حافظ و قاری افروز رضوی صاحب، حضرت مفتی اشتیاق مصباحی صاحب، حضرت حافظ و قاری عمران خان قادری صاحب، حضرت حافظ و قاری سرفراز الفت صاحب، حضرت علامہ عبد القدوس تیغی مجاہدی صاحب، حضرت حافظ و قاری خالد رضا خان اشرفی صاحب، حضرت حافظ عبد الستار قادری صاحب، حضرت حافظ توحید رضا صاحب، حضرت قاری مہتاب عالم اشرفی صاحب، حضرت ثقلین اشرفی صاحب، حضرت حافظ و قاری محمد غلام آل رسول صاحب ، حضرت مولانا ضیاء القمر صاحب ، حضرت حافظ شمس القمر صاحب اور دیگر جلیل القدر علما و معزز شخصیات شامل تھیں۔

محفل کا آغاز بعد نمازِ مغرب خوش الحان قاریِ قرآن حضرت حافظ و قاری سرفراز الفت صاحب کی دل نشیں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ تلاوت کی روح پرور فضا نے مجلس کے آغاز ہی میں دلوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔

اس کے بعد مدّاحِ رسول حضرت حافظ و قاری محمد غلام آل رسول صاحب نے نعتیہ و منقبتی کلام پیش کرکے محفل کو عشقِ رسول ﷺ اور محبتِ اولیا کی خوشبو سے معطر کیا۔ بعد ازاں حضرت حافظ افروز رضوی صاحب نے بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ میں منقبت کے نذرانے پیش کیے۔ حضرت حافظ زین العابدین رضوی صاحب نے بھی اپنے خوب صورت نعتیہ اشعار سے سامعین کے قلوب کو محظوظ فرمایا۔

اس کے بعد شہنشاہِ خطابت حضرت علامہ غلام آسی مصباحی رضوی صاحب نے نہایت جامع، مدلل اور شاندار خطاب فرمایا۔ آپ نے حضرت سیدنا اسماعیل و اسحاق علیہما الصلوٰۃ والسلام سے سلسلۂ نسب کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما اور پھر سرکارِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت و مقام کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا۔ آپ کی تقریر میں علمی نکات، تاریخی شواہد، محبتِ اہلِ بیت اور عقیدتِ اولیا کا حسین امتزاج نمایاں تھا۔

بعدہٗ مفتیِ قوم و ملت حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد افضل حسین رضوی مصباحی صاحب قبلہ نے مختصر مگر جامع خطاب فرمایا۔ آپ کی گفتگو میں اختصار کے باوجود جامعیت، فکری پختگی اور اصلاحی پہلو نمایاں تھا۔

اس کے بعد محفل کے روحِ رواں، محسنِ قوم و ملت، حضرت علامہ روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ نے نسبتِ سرکارِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نہایت مؤثر اور دل نشیں نصائح فرمائیں۔ آپ کی گفتگو نے حاضرین کے قلوب پر گہرا اثر چھوڑا۔ آپ نے محبت کو عمل سے جوڑنے، نسبت کو زندگی کا سرمایہ بنانے اور مقدس مقامات کی زیارت کو محض سفر نہیں بلکہ روحانی تربیت اور اصلاحِ باطن کا ذریعہ بنانے کی طرف توجہ دلائی۔

آپ کی اس مؤثر گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ متعدد افراد نے عمرہ و حج اور بغدادِ معلیٰ و نجفِ اشرف کی زیارت کا عزمِ مصمم کیا۔ یہ کسی محفل کی کامیابی کی بڑی علامت ہے کہ اس سے صرف چند ساعتوں کی مسرت حاصل نہ ہو بلکہ انسان کے دل میں کسی نیک عمل کا پختہ ارادہ پیدا ہوجائے۔

اس موقع پر حضرت علامہ روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ نے خصوصی طور پر زائرین کو تحائف و تبرکات سے نوازا، جبکہ عمومی طور پر تمام علمائے کرام کی خدمت میں بھی تحائف پیش فرمائے۔ یہ محبت و عقیدت کے وہ نذرانے تھے جنہوں نے محفل کی خوشیوں کو مزید دوبالا کردیا۔

بزمِ خیر و برکت کی مقبولیت اور روحانی تاثیر کا ایک نمایاں منظر اس وقت سامنے آیا جب حضرت علامہ روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ نے شہر کے تین مایۂ ناز علمائے کرام کے لیے بغدادِ معلیٰ کے فضائی ٹکٹ کا انتظام کرنے کا اعلان فرمایا۔

یہ اعلان بلاشبہ حاضرین کے لیے ایک روح پرور اور مسرت انگیز خبر تھی۔ اس موقع پر پیکرِ خلوص و وفا حضرت حافظ ساجد رضا صاحب نے بھی اپنی محبت و ایثار کا ثبوت دیتے ہوئے ان تینوں علمائے کرام کے دیگر سفری اخراجات کی ذمہ داری اپنے سر لینے کا اعلان فرمایا۔

بغدادِ معلیٰ کی زیارت کی اس سعادت سے بہرہ مند ہونے والے خوش نصیب علمائے کرام میں:

حضرت علامہ ملک شبیر عالم مصباحی رضوی صاحب،

حضرت علامہ غلام آسی رضوی صاحب،

اور حضرت علامہ مشرف حسین رضوی صاحب قبلہ

شامل ہیں۔

یہ اعلان محفل کے ان یادگار لمحات میں سے تھا جس نے حاضرین کے دلوں میں محبت، اخلاص، ایثار اور زیارتِ مقدسات کی ایک نئی امنگ پیدا کردی۔

راقم الحروف کو بھی اس روح پرور محفل میں اپنے تأثرات پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ میں نے ’’غوثِ اعظم در میانِ اولیا، چوں محمد در میانِ انبیا‘‘ کے مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے اس حدیثِ پاک کی طرف توجہ دلائی جس میں نبیِ کریم ﷺ نے اہلِ جنت کی صفوں کی کثرت کے بارے میں ارشاد فرمایا:

أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، ثَمَانُونَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ۔

یعنی اہلِ جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، جن میں اسی صفیں اس امتِ محمدیہ سے اور چالیس صفیں دیگر امتوں سے ہوں گی۔

راقم نے اس حدیث کے مفہوم کی روشنی میں یہ عرض کیا کہ جب فضلِ مصطفیٰ ﷺ سے امتِ محمدیہ کو دیگر امتوں پر کثرت و فضیلت حاصل ہوئی، تو اسی امت کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں اور اولیاے کرام کو بھی مراتب و درجات عطا فرمائے۔ اسی نسبت سے اہلِ محبت سرکارِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کو اولیا کے درمیان ایک ممتاز مقام کا مظہر سمجھتے ہیں اور ان کی نسبت کو اپنے لیے باعثِ خیر و برکت تصور کرتے ہیں اور بروز قیامت انبیا میں سب سے زیادہ امتی مصطفے جان رحمت ﷺ کی ہوگیں تو اولیا میں سب زیادہ مرید سرکار غوث اعظم کے ہوں گے۔

محفل کی نقابت نبّاضِ قوم و ملت حضرت حافظ ساجد رضا رضوی صاحب نے نہایت سلیقے، برجستگی اور حسنِ نظامت کے ساتھ فرمائی۔ ان کی نقابت نے پروگرام کے تمام مراحل کو مربوط اور پُرکشش بنائے رکھا۔ متعدد شعراے کرام نے بھی اپنے عقیدت مندانہ کلام پیش کرکے بزم کی ادبی و روحانی فضا کو مزید دل آویز بنایا۔

آخر میں قیام و سلام کی سعادت حاصل ہوئی اور حضرت علامہ ملک شبیر عالم مصباحی رضوی صاحب کی رقت انگیز دعا پر یہ بابرکت مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔ دعا کے دوران محفل میں ایک عجیب روحانی کیفیت طاری تھی۔ دلوں پر رقت، آنکھوں میں نمی اور زبانوں پر آمین کی صدائیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ یہ اجتماع محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ محبت و عقیدت سے معمور ایک یادگار بزم تھی۔

الحمدللہ! پوری محفل انتہائی روح پرور، ایمان افروز، محبت و عقیدت سے لبریز اور حسنِ انتظام کا عمدہ نمونہ رہی۔ محفل کے اختتام کے بعد لنگرِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا بھی نہایت عمدہ اور پرتکلف انتظام تھا۔ شرکائے محفل نے اس میں شرکت کرکے اخوت، محبت اور باہمی تعلق کی ایک خوب صورت مثال قائم کی۔

ایسی محافل کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ لوگ جمع ہوں، تقاریر ہوں، نعتیں پڑھی جائیں اور محفل اختتام پذیر ہوجائے؛ بلکہ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ کسی کے دل میں نماز کی پابندی کا جذبہ پیدا ہو، کسی کے اندر خدمتِ خلق کا شوق بیدار ہو، کسی کے دل میں زیارتِ حرمین کی تڑپ پیدا ہو، کسی نوجوان عالم کو آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے اور کسی ضرورت مند کی زندگی میں آسانی پیدا ہوجائے۔

حضرت علامہ روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ کی قیادت میں منعقد ہونے والی اس بزم کی ایک بڑی خصوصیت یہی محسوس ہوئی کہ یہاں محبتِ رسول ﷺ، عقیدتِ اولیا، علم و ادب، خدمتِ خلق اور عملی تعاون ایک ہی چھت کے نیچے جمع نظر آئے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت علامہ روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ کی تمام دینی، علمی، ملی، رفاہی اور فلاحی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی عمر، علم، عمل اور اخلاص میں برکت عطا فرمائے، ان کی قیادت میں قائم اداروں کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، نئی نسل کے علماے کرام کو ان کے اخلاص و خدمت سے فیض یاب فرمائے، تمام زائرینِ حرمین شریفین و بغدادِ معلیٰ کے اسفار کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور تمام عاشقانِ رسول ﷺ کو دارین کی لازوال سعادتوں، برکتوں اور خوشیوں سے مالامال فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی زندگی کو محض اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے دین، ملت اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔


فقیرِ اشرفی

مفتي محمد وسیم خان اشرفي جالوي 

چیرمین، قطبیہ ایجوکیشنل ویلفیر ٹرسٹ،

خادم، قادری سمنانی دارالافتا، کولکاتا

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A