قربتِ اولیائے کرام
اللہ تعالیٰ کا بے پناہ لطف وکرم ہے کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے ہر دور میں اپنے محبوب و مقرب اولیائے کرام اور بزرگان ذوی الاحترام کو پیدا فرماتا ہے ، انھیں اپنے قرب کی لذتوں سے آشنا کرتا ہے ، لازوال انعام و اکرام سے مالامال فرماتا ہے۔ان کے کلام کو اپنا کلام، ان کی سماعت کو اپنی سماعت اوران کی عطا کو اپنی عطا قرار دیتا ہے، ان کے جلووںمیں اپنا جلوہ بکھیر تا ہے، ان کی مجلس میں بیٹھنے والوں کو اپنے قرب سے نوازتا ہے اور ان کے ہم نشینوں کو محروم نہیں کرتا۔
نیچے کچھ پاکیزہ کلمات لکھے جاتے ہیں جن سے اولیائےکرام کی صحبت و معیت اور ہم نشینی و قربت کا فیضان روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
ارشاد ربی ہے:
﴿یأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَكُونُوا۟ مَعَ ٱلصَّـٰدِقِینَ ﴾ [التوبة١١٩]اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ ۔
﴿وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِینَ یَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجۡهَهُۥۖ وَلَا تَعۡدُ عَیۡنَاكَ عَنۡهُمۡ تُرِیدُ زِینَةَ ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَاۖ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهُۥ عَن ذِكۡرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُۥ فُرُطا﴾ [الكهف ٢٨]
ترجمہ:اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے اور تمھاری آنکھیں انھیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگی کا سنگار(زینت)چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔(کنزالایمان)
خداوندِ کریم ان آیات میں حکم دیتا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو،ان سے محبت رکھو اور صرف ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بس نہ کرنا بلکہ اپنے نفس ، اپنی روح کو بھی اولیاء اللہ کے ساتھ وابستہ کرنا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا جیساکہ سرور عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا " المرء مع من احب" دنیا میں جسے جس سے محبت ہوگی قیامت میں وہ اسی کے ساتھ ہوگا۔
سیدالانبیاء علیہ الصلاۃ و السلام کے اس فرمان سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ دنیا میں اگر کسی کو سرکار غوث پاک، خواجہ پاک، مخدوم سمنانی، اعلی حضرت ، سرکار سرکانہی الغرض جن بزرگان دین اور سادات کرام سے محبت و الفت ہے وہ قیامت میں انھیں بزرگوں کے ساتھ ہوگا ۔ اور جملہ بزرگان دین آقا کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے ساتھ ہوں گے گویا عاشقان صحابہ، غلامان اہل بیت اور فدایان اولیاء اللہ مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پرچم تلے ہوں گے۔
عارف رومی فرماتے ہیں :
ہرکہ خواہد ہم نشینی باخدا او نشیند در حضورِ اولیاء
جوشخص چاہتا ہے کہ خداوند کریم کے ساتھ بیٹھے یعنی بارگاہ خداوندی میں مقبول و محبوب ہو تو اسے چاہیے کہ اولیاء اللہ کی مجلس اختیار کرے اور ان کی صحبت میں رہے اس لیے کہ
یک زمانہ صحبت با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
مولانا روم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اولیائے کرام کی بارگاہ میں ایک لمحہ بیٹھنا سوسال کی مقبول عبادت سے افضل و بہتر ہے۔
ارشاد ربانی :
﴿ وَٱتَّبِعۡ سَبِیلَ مَنۡ أَنَابَ إِلَیََّۚ ﴾ [لقمان:۱۵}
حضرت ابو محمد سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ زیر آیت فرماتے ہیں:
قولہ ( واتبع سبیل من اناب الیّ)من لم يهتد الطريق إلى الحق فليتبع آثار الصالحين لتوصله بركة متابعتهم إلى طريق الحق، ألا ترى كيف نفع اتباع الصالحين كلب أصحاب الكهف، حتى ذكره الله تعالى بالخير مرارًا
جو میری طرف رجوع ہوا ، اس کے راستہ کی پیروی کرو) یعنی جو راہ حق کی ہدایت نہ پائے، اسے چاہیے کہ وہ صالحین کرام کے نقش قدم پر چلےتاکہ ان کی پیروی کی برکت اسے راہ حق تک پہنچادے ، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ صالحین کرام کی پیروی نے اصحاب کہف کے کتے کو کس قدر نفع پہنچایا! یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مرتبہ اس کتے کا نام اپنے کلام میں بھلائی کے ساتھ ذکر فرمایا۔
ذکر الہی میں مصروف اورعبادت و ریاضت میں مشغول ایسے ہی بندوں کے بارے میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے : ھم الجلساء لایشقی بھم جلیسھم یہ وہ ہم نشیں ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والابدنصیب نہیں ہوتا۔ ( صحیح البخاری، کتاب الدعوات، صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء والتوبۃ )
عظیم محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مشکاۃ شریف کی شرح مرقاۃ میں لکھاہے۔ جس طرح بری نظر درختوں کو خشک کردیتی ہے اور انسانوں کو بیمار کردیتی ہے اسی طرح عارفین کی نظر " یجعل الکافر مؤمنا " کافروں کو مومن بنا دیتی ہے ۔ فاسق، گناہ گار، شرابی اور زانی کو ولی اللہ بنا دیتی ہے۔ و یجعل الکلب انسانا۔ اور کتے کو انسان بنا دیتی ہے۔ ایک کتا اصحاب کہف کے ساتھ ہو لیا تھا جب وہ ظالم بادشاہ سے دور جارہے تھے ، اس کتے کا تذکرہ سورہ کہف میں ہے، اس کا نام قطمیر تھا قرآن میں ہے، اصحاب کہف اسے بھگانے لگے تو اللہ نے اسے گویائی سے نواز دیا ۔
امام فخر الدین رازى علیہ الرحمہ کہتے ہیں:
ما تُرِيدُونَ مِنِّي لا تَخْشَوْا جانِبِي أنا أُحِبُّ أحِبّاءَ اللَّهِ فَنامُوا حَتّى أحْرُسَكُمْ(تفسیر کبیر جلد 5 ص 473)
آپ لوگ مجھ سے خوف نہ کھائیں۔ میں تو اللہ سے محبت کرنے والوں سے محبت رکھتا ہوں۔ پس آپ لوگ سوجائیں میں آپ کا پہرہ دوں گا اور میری تو آرزو یہ ہے کہ آپ لوگوں کی پاک صحبت سے میری نجات ہو جائے۔ اور قیامت کے دن میں بھی بخشا جاؤں۔یہی وجہ ہے کہ بروز قیامت بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے وہ کتا بھی جنت میں جائے گا۔ اس کتے کے نام کے ہر ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں کیوںکہ قرآن پاک میں جتنے حروف ہیں، ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اولیاء اللہ، صحابہ کرام اور خود سرور عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زبان نبوت سے نمازوں میں اس کا نام لیا ہے۔ نیز صرف کتا ہی نہیں بلکہ بزرگوں کی نسبت کی وجہ سے بہت سے جانور جنت میں جائیں گے۔
علامہ احمدحموی نے نقل کرتے ہیں:
قَالَ مُقَاتِلٌ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: عَشَرَةٌ مِنْ الْحَیوَانَاتِ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ :نَاقَةُ مُحَمَّدٍ عَلَیهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، وَنَاقَةُ صَالِحٍ عَلَیهِ السَّلَامُ ، وَعِجْلُ إبْرَاهِیمَ عَلَیهِ السَّلَامُ ، وَكَبْشُ إسْمَاعِیلَ عَلَیهِ السَّلَامُ ، وَبَقَرَةُ مُوسَى عَلَیهِ السَّلَامُ ، وَحُوتُ یونُسَ عَلَیهِ السَّلَامُ ، وَحِمَارُ عُزَیرٍ عَلَیهِ السَّلَامُ ، وَنَمْلَةُ سُلَیمَانَ عَلَیهِ السَّلَامُ ،وَهُدْهُدُ بِلْقِیسَ، وَكَلْبُ أَهْلِ الْكَهْفِ ، كُلُّهُمْ یحْشَرُونَ . كَذَا فِی "مِشْكَاةِ الْأَنْوَارِ" .وَذَكَرَ فِی "مِشْكَاةِ الْأَنْوَارِ شَرْحِ شِرْعَةِ الْإِسْلَامِ" : أَنَّهَا كُلُّهَا تَصِیرُ عَلَى صُورَةِ الْكَبْشِ .
(1) جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی
(2) حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی
(3) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بچھڑا
(4) حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مینڈھا
(5) حضرت موسی علیہ السلام کی گائے
(6) حضرت یونس علیہ السلام کی وہیل مچھلی
(7) حضرت عزیر علیہ السلام کا گدھا
(8) حضرت سلیمان علیہ السلام کی چیونٹی
(9) بلقیس کا ھدھد
(10) اصحاب کہف کا کتا۔ یہ سب کے سب بصورت مینڈھا جنت میں جائیں گے (غمز العیون البصائرحاشیۃ الاشباہ والنظائر4/131)
الغرض جیسے جسموں کی بیماری کے علاج کےلیےاطباء کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ دل کی بیماریوں کے علاج کے لیے اولیاء اللہ کی ضرورت ہے ۔ لوہے سے زنگ دور کرنے کے لیے بھٹی چاہیے مگر دل کا زنگ دور کرنے کے لیے صحبت اولیاء کی بھٹی چاہیے۔
یک زمانہ صحبت با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا۔
اللہ رب العزت جملہ مسلمانان عالم کو بزرگان دین کے فیضان سے مالامال کرے اور مخیر قوم و ملت صوفی ماسٹر عبد الجلیل صاحب تیغی علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند پیکر خلوص و وفا جناب ڈاکٹر نسیم تیغی صاحب کی اس کاوش کو مقبول عام و خاص بنائے جو انھوں نے اپنی دختر نیک اختر کی شادی خانہ آبادی کے موقع پر ایک بہت ہی اچھی اور عمدہ کوشش کی ہے اللہ پاک اس کا صلہ انھیں اور ان کی بچی کو عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ سیدالکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
چیر مین : قطبیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ
ناظم اعلیٰ : دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ پنجابی پاڑہ 29/1 تلجلا روڈ کولکاتا 46
موبائل : 9883724452
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.