حضورقطب المشایخ علیہ الرحمہ کودیکھکراللہ کی یادآجاتی تھے
آپ جیسےشریعت وطریقت کےسنگم شیخ کامل کی ذات اللہ پاک کی عظیم نشانیوں میں سےہےمفتی محمدمنظرحسن خان اشرفی مصباحی بانی دارالعلوم فیضان قطب المشایخ وکرولی پارک سائٹ ممبئ
اس روئےزمین پرشریعت وطریقت کیےبہت سےآفتاب وماہتاب جلوہ افروزہوئے اوراپنی روشنی سےاس دنیاءکومنورکرنےکےبعدحکم الٰہی کےمطابق تشریف لےگئے مگرکچھ ایسی عظیم اورنابغئہ روزگارہستیاں بھی اس منصئہ شہود پرجلوہ بارہوئ ہیں کہ جن کےنقوش حیات ان کےپردہ فرمانےکےبعدبھی قیامت تک کے آنےوالی نسلوں کودعوت فکروشعورکےساتھ ذوق عبادت وریاضت دیتی رہینگیں۔۔ان ہی میں سےایک نمایاں نام حضورقطب المشایخ عارف باللہ شہزادئہ سرکارغوث اعظم آل رسول اکرم فرزندبتول گل گلزاراشرفیت حکیم الامت محبوب سلطان سیدنامخدوم اشرف جہانگیرسمنانی سیدالمرشدین حضرت علامہ الحاج الشاہ سیدمحمدقطب الدین اشرف الاشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کابھی ہےآپ کی ولادت جنوری 1929/میں محدث حرمین وشریفین محی الملت حضرت علامہ الحاج الشاہ ابوالمعین سیدمحی الدین اشرف الاشرفی جیلانی المعروف بہ سرکاراچھےمیاں رحمة اللہ علیہ کےکاشانئہ اقدس میں ہوئ آپ کانام ہم شبیہ غوث اعظم پروردئہ سہ محبوباں جانشین مخدوم سمناں حضورسیدناسیدعلی حسین المعروف بہ اعلی حضرت اشرفی میاں رضی اللہ عنہ نےرکھاجوآپ کےپرناناہیں آپ کےناناعالم ربانی عارف حقانی فرزندغوث جیلانی واعظ لاثانی حضرت علامہ الحاج الشاہ سیداحمداشرف الاشرفی جیلانی علیہ الرحمہ ہیں ہم شبیہ غوث اعظم نےہی آپ کی بسم اللہ خوانی اہل خانہ ومشایخین کی موجودگی میں کرایاحضورمحدث اعظم ہندنےآپ کوہدایةالنحو،کافیہ اورمیزان ومشعب وغیرہ شروع کرایااوردرس بھی دیا آپ اعلی تعلیم کےحصول کےلئےمرکزعلم وفن جامعہ نعیمیہ مرادابادشریف تشریف لےگئےاوروہاں آپ نےسیدناسرکارصدرالافاضل فخرالاماثل خسروئےبارگاہ اشرفی امام الفقھاء حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی سیدمحمدنعیم الدین اشرفی مرادابادی اورحضرت علامہ مفتی محمدحبیب اللہ نعیمی اشرفی وحضرت علامہ محمدیونس نعیمی اشرفی وحضرت علامہ محمدعمرنعیمی وحضرت علامہ آل حسن رحمة اللہ علیھم اجمعین جیسی نادرونایاب شخصیتوں سےحصول علم فرمایا آپ کی فراغت جامعہ نعیمیہ ہی سے 1950//میں ہوئ آپ ایک سال جامعہ نعیمیہ میں درس دینےکےبعدطبیہ کالیج لکھنؤعلم طب کےحصول کےلئےتشریف لےگئےاور1955//تک طبیہ کالیج میں زیرتعلیم رہےآپ نےطبیہ کالیج سےبی آئ ایم ایس کی ڈگری حاصل کی اپ اپنےوقت کےجہاں عظیم عالم وفقیہ اورصوفی تھےوہیں بہت بڑےماہرحکیم وطبیب بھی تھےآپ مرض کی تشخیص میں یدطولی رکھتےتھےآپ نکتہ آفریں خطیب اوراسلام کےسنجیدہ داعی ومبلغ تھےآپ کی ناصحانہ اورحکمت آمیزگفتگوکوسن کربہت سےبدعقیدہ وبدمذہبوں نےبدعقیدگی سےتوبہ کرکےاہلسنت میں داخل ہوگئے آپ شریعت وطریقت کےجامع اور محاسن وکمالات سےمتصف تھےآپ کی مجلسیں پاک اورخداورسول علیہ وآلہ وسلم کےاذکارسےمنور رہتی تھیں۔۔۔آپ نےکبھی بھی کسی سےدعوت وتبلیغ کی اجرت طلب نہیں فرمایاحدیث پاک میں اولیاءاللہ کی نشانیوں میں بتایاگیاہےکہ جن کےچہرہ کودیکھکراللہ کی یادآجائے،جن کی گفتگوکوسن کرعلم میں اضافہ ہوجائےاورجن کےعمل کودیکھکرآخرت کی یاد آجائے۔۔۔بلاشک وشبہ حضورقطب المشایخ علیہ الرحمہ کی ذات بابرکت میں یہ سب نشانیاں بدرجئہ اتم موجودتھیں۔۔۔تصوف میں حرص دنیاء سےپاک ہوناصوفی کےلئےنہایت ضروری ہے واللہ آپ کےدل میں دوردورتک حرص،طمع مال اورجاہ وحشمت کادخل نہیں تھا آپ اپنےاساتذۀ کرام کاذکربڑےوالہانہ اورمجبت بھرےاندازمیں فرماتےان کی شفقت ومحبت کاذکرخیرفرماتے آپ کی بارگاہ میں کسی بھی اہل علم کاذکرہوتاتوآپ ان کانام القاب وآداب کےساتھ لیتےخواہ ان سےآپ کایاخانوادۀ اشرفیہ کاعلمی اختلاف رائے کیوں نہ ہو آپ انزلوالناس منازلھم پرمکمل عمل پیراتھےآج کل اگرکسی سےآپ کاکچھ علمی اختلاف رائےہوجائےتووہ تمام اخلاقی سرحدوں کوبھول کرآپ کی ذاتیات پرنازیباحملہ کرناشروع کردیتاہےہرمجلس میں اشارتاکنایة اپنےمخالف کوہدف تنقیدبنانامحبوب مشغلہ بن جاتاہےاوراسی میں وہ اپنی کامیابی سمجھتےہیں مگربخدا حضورقطب المشایخ علیہ الرحمہ کی ذات کریمہ ان تمام عیوب سےبالکلیہ پاک وصاف تھی آپ کبھی بھی کسی کی غیبت اورعیب کوظاہرنہیں فرماتےبلکہ عیب پوشی آپ کامحبوب وطیرہ تھاآپ کی مجلس میں نشست وبرخاست کرنےوالےان باتوں پرشاہدہیں آپ کی بارگاہ میں مشربی اختلاف کےدورمیں بھی خانوادۀ رضویہ سےمنسلک افرادملنےآتےآپ سےاپنےشیخ کانام بتاتےتوآپ حسب عادت مسکراتےہوئےفرماتےبابوتمام خانقاہیں ہماری ہی ہیں،اہلسنت کےتمام مشایخین اورعلماءسےمحبت رکھوکسی کی توہین ہرگزمت کرناآپ بالخصوص اپنےمریدوں اورعقیدت مندوں کومخاطب کرتےہوئےفرماتےبابوایک کامحبوب سب کامحبوب اورایک درکامردودسب کامردود۔۔اپنےشیخ سےمحبت وعقیدت کاہرگزیہ مطلب نہیں کہ آپ کسی کےشیخ کی تذلیل کریں ۔بابوگستاخوں کی کبھی معافی نہیں ہوتی ہے۔۔۔شریعت وطریقت میں ادب کی بڑی اہمیت ہے آپ کی ان نصیحتوں کوآج عام کرنے کی بیحدضرورت ہے آج درویشی،پیری،فقیری کےنام پرجوکچھ ہورہاہےجس سےاہلسنت کی بدنامی ہورہی ہےوہ کسی پرپوشیدہ نہیں ہےآج ایں قدر،آں قدر جس کودیکھو اپنی مشیخیت کی دوکان چلارہاہےنہ شرم نبی علیہ وآلہ وسلم اورنہ خوف خداعزوجل احکامات شرعیہ سےنابلد اوربےعمل۔۔۔طریقت کےاسرارورموزسےغافل جسےنابالغان طریقت آپ کہ سکتےہیں ایسوں کی بہتات ہےاگرآپ نےان کی نازیبااورغیرشرعی حرکات وسکنات کےخلاف کچھ کہاتوپھران کےاوباش عقیدت مندآپ کےپیچھےپرجائینگےاللہ پاک ایسےداعیان شریعت وطریقت سےہماری اورہمارےنسلوں کی حفاظت فرمائےآج بھی حاملان شریعت وطریقت سےدنیاءخالی نہیں ہےمگران کی تعدادبہت کم ہےآ پ کاوصال 11//ربیع النورشریف 1434//ھجری بمطابق 24// جنوری 2013//عیسوی میں ہوااور12//ربیع النورشریف کوتدفین عمل میں آئ آپ کی نمازہ جنازہ آپ کے فرزندوجانشین حضورتاج الاسلام عالم ربانی حضرت علامہ الحاج الشاہ سیدمحمدنظام الدین اشرف الاشرفی جیلانی صاحب قبلہ نےپڑھایا آپ اپنےوالدمکرم علیہ الرحمہ کی عملی تصویرہیں اللہ پاک آپ کاسایِئہ کرم ہم تمامی اہلسنت پرتادیرسلامت رکھے
ابررحمت ان کی مرقدپرگہرباری باری کرے
حشرتک شان کریمی نازبرداری کرے
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.