786/92
زوجہ استاذ العلماء کولکاتا
موت تو اس لیے لگتی ہے بھلی ہم کو بہت
بعد مرنے کے تو دیدار تمہارا ہوگا ( از شیخ اعظم )
آج مورخہ 6 دسمبر 2025 مطابق 14 جمادی الآخرہ 1447ھ بروز شنبہ بعد نماز فجر دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ ملحق مسجد محبوب رحمانی تلجلا روڈ پنجابی پاڑہ کولکاتا 46 میں استاذ گرامی وقار حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد رحمت علی مصباحی قادری تیغی نمازی صاحب قبلہ مدظلہ النورانی کی اہلیہ محترمہ مرحومہ و مغفورہ شکیلا خاتون کے چالیسواں کے موقع پر دسواں ، بیسواں کی طرح قرآن خوانی ہوئی جس میں جملہ اساتذہ کرام و طلباے عظام نے شرکت کی ۔گزشتہ ماہ یکم نومبر کو مفتی صاحب قبلہ کی زوجہ یعنی عزیز القدر حضرت مفتی محمد حسان رضا مصباحی قادری تیغی کی والدہ ماجدہ دار فانی سے دار بقا کی طرف رحلت کر گئیں۔
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
موت بر حق ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا جو بھی اس خاکدان گیتی پر آیا ہے وہ اپنی زندگی گزار کر جس جگہ اس کی موت مقرر ہے اسی جگہ اسے اک دن موت کی آغوش میں جانا ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔ (سورہ نساء)
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اورقیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دئیے جائیں گے توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے ۔
قرآن مجید :
وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا۔ (پارہ: 28)
اور ہرگز اللّٰہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا مقررہ وقت آجاۓ۔
فرمان خدا وندی :
اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍؕ-(پارہ : 5)
تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں ضرور پکڑ لے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔(سورہ نسآء)
کلام الہی :
كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۔ (پارہ : 27 )
زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے۔ اور صرف تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔( سورہ رحمن )
حدیث پاک :
اِنَّ لِلہِ مَا اَخَذَ وَلَہُ مَا اَعْطٰی وَکُلٌّ عِنْدَہُ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔ ( بخاری ، ۱ )
بیشک اللہ پاک ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور جو کچھ اس نے دیا ہے اور ہر چیز کی اس کی بارگاہ میں میعاد مقرر ہے پس چاہیے کہ تو صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے۔
مرحومہ نہایت نیک سیرت،عمدہ خصلت ، بلند صفات، روحانی اوصاف ، خدا ترس اورصوم و صلاة کی پابند تھیں ۔ صبر و شکر، قناعت پسندی اور خلوص کا حسین سنگم تھیں۔
حدیث پاک میں ہے ۔
الدنیا کلھا متاع وخیر متاع الدنیا المرأة الصالحة۔ (مسلم)
دنیا ایک پونجی ہے اور دنیا کی بہترین پونجی نیک عورت ہے۔
قال رسول الله ﷺ:
إذا صلت المرأة خمسها ، وصامت شهرها ، وحصنت فرجها ، وأطاعت زوجها ، قيل لها : ادخلي الجنة من أي أبواب الجنة شئت .
حضور اکرم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ عورت جو وقت پر نماز ادا کرتی ہے ، ماہ رمضان کا روزہ رکھتی ہے ، اپنی عصمت کی حفاظت کرتی ہے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہے وہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں جس سے چاہے گی اس سے داخل ہو جاۓ گی ۔ ( صحیح البخاری )
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: المرأة الصالحة خير من ألف رجل غير صالح، وأيّما امرأة خدمت زوجها سبعة أيام أغلق اللّه عنها سبعة أبواب النّار، وفتحت لها ثمانية أبواب الجنّة تدخل من أيّها شاءت.
حضور ﷺ نے فرمایا کہ نیک عورت ہزار برے مردوں سے بہتر ہے اور وہ عورت جو اپنے خاوند کی سات دن تک خدمت کرتی رہے اس پر جہنم کے سات دروازے بند کردیے جائیں گے اور اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے جس سے چاہے بغیر حساب داخل ہو جاۓ گی ۔
روى عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه أنه قال: قال عليه الصلاة و السلام:] إذا غسلت المرأة ثياب زوجها كتب الله لها ألف حسنة وغفر لها ألفي خطيئة واستغفر لها كل شيء طلعت عليه الشمس ورفع لها ألف درجة (رواه أبو منصور في مسند الفردوس)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب عورت اپنے خاوند کے کپڑے دھوتی ہے تو اللہ تعالی اسے ایک ہزار نیکی کا ثواب عطا فرماتا ہے اور اس کے دو ہزار گناہ معاف کر دیتا ہے اور ہر چیز بخشش طلب کرتی ہے اور اس عورت کا ایک ہزار درجہ بلند کردیا جاتا ہے ۔
عن ثوبان قال لما نزلت (والذین یکنزون الذہب والفضۃ) کنا مع النبیﷺ فی بعض اسفارہ فقال بعض اصحابہ نزلت فی الذہب والفضۃ لو علمنا ای المال خیر فنتخذہ۔ فقال افضلہ لسان ذاکر وقلب شاکر و زوجۃ مؤمنۃ تعنیہ علی ایمانہ۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں جب یہ آیت اُتری کہ جو لوگ سونا او ر چاندی جمع کرتے ہیں اُن کے لیے وعید ہے تو بعض صحابہ نے کہا کہ اگر ہم یہ جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو لیتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل چیز خدا کو یاد کرنے والی زبان اور خدا کا شکر کرنے والا دل اور مومن بیوی ہے جو اس کے ایمان پر اُس کی مدد کرے۔
(احمد، الترمذی، ابن ماجہ، بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح)
عن ابی امامۃ عن النبیﷺ انہ یقول: ما استفاد المؤمن بعد تقوی اللہ خیراً لہ من زوجۃ صالحۃ ان امرہا اطاعتہ و ان نظر الیہا سرّتہ و ان أقسم علیہ ابرّتہ و ان غاب عنہا نصحتہ فی نفسہا و مالہ۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے تقویٰ کے بعد سب سے بہتر چیز جو ایک مومن پاتا ہے وہ نیک بیوی ہے کہ اگر اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے۔ اور اگر اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کردے اور اگر وہ اس پر قسم کھالے تو وہ اس کو پورا کرے اور اگر وہ اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور اُس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے
(ابن ماجہ، بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح)
عزیز القدر مفتی حسان رضا صاحب اور ان کے جملہ برادران کی کامیاب زندگی کو دیکھ کر مرحومہ و مغفورہ کی حسن تربیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ مرحومہ جہاں مفتی صاحب قبلہ کے لیے " فی الدنیا حسنة " کی عملی تفسیر تھیں وہیں اپنے بال بچوں کے لے لیے "
’’اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍ
حُبِّ نَبِیِّکُمْ وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہٖ وَقِرَاءَۃِ الْقُرْاٰنِ"
یعنی اپنے بچوں کو تین(3)چیزیں سکھاؤ ، اپنے نبی کی مَحَبَّت، اوراَہل بیت کی مَحَبَّت، اور قرآنِ پاک پڑھنا"
کی عملی تنویر بھی
جامعہ عبد اللہ بن مسعود ہو یا دارالعلوم قادریہ ضیاۓ مصطفے یا دیگر مکاتب و مدارس جس کی آج علمی میدان میں اپنی پہچان ہے تو یہ کہنے میں ہم حق بجانب ہیں کہ اس میں جہاں استاذی الکریم مفتی صاحب قبلہ کی محنت شاقہ اور خلوص وللہیت شامل ہے وہیں مرحومہ و مغفورہ کی دعاے سحرگاہی بھی ہے۔
مرحومہ نے اپنی اولاد کو علم و ادب کی زینت کے ساتھ ساتھ حسن اخلاق و تربیت کی دولت سے بھی ہمکنار فرمایا،انھوں نے بڑے صاحبزادے کو ایک اچھا عالم و مفتی بنایا تو دوسرے شہزادے کو ڈاکٹری کی تعلیم سے مزین کروایا۔ اور یہ سب کام مرحومہ کا صدقہ جاریہ ہے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله تعالى عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: إِذَا مَاتَ ابنُ آدم انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أو عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے): صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے۔
بالاخیر :
اللہ تعالی مرحومہ کے صغائر و کبائر کو در گزر فرماۓ ہر چھوٹی بڑی نیکیوں کو قبول فرماۓ جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرماۓ جملہ لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل و اجر جزیل سے نوازے۔ آمین ثم آمین
از
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
مسجد محبوب رحمانی ،
دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ ، قادری سمنانی دارالافتا
پنجابی پاڑہ تلجلا روڈ کولکاتا 46
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.