29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

حافظ ملت ایک عظیم مبلغ

از محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ ، قادری سمنانی دار الافتا تلجلا روڈ کولکاتا 46 Post Date: 2024-12-07

حافظ ملت ایک عظیم مبلغ

اللہ تبارک و تعالی کا بے پناہ احسان و شکر ہے کہ اس نے ہماری رہنمائی کے لیے انبیاء کرام ا ور رسولان عظام کو مبعوث فرمایا یہاں تک اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے خاتم النبیین بناکر بھیجا ،چنانچہ نہ آپ کے زمانے میں اورنہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی و رسول نہیں آسکتا مگر یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ وہ ہدایت و رہنمائی کا کام جو انبیاء کرام و رسولان عظام کر رہے تھے آقا علیہ السلام کےبعد

 بھی اس کی ضرورت باقی تھی اور جب تک انسان آتے رہیں گے ضرورت باقی رہے گی ،اس لیے اس کام کے لیے ہر دور میں ان کے نائبین آتے رہیں گے اور جب جب قوم کو ضرورت ہوئی تب تب اللہ رب العزت نے اس قوم کی رہنمائی کے لیےرہبر عطا فرمایا مثلا بعد سرکار منکرین زکاۃ وغیرہ کا جب فتنہ کھڑا ہوا تو اس کی سرکوبی کے لیے حضرت صدیق اکبر و جمیع صحابہ کھڑے ہوئے،جب یزیدی فتنہ اٹھا تو اس کی سرکوبی کے لیے نواسہ رسول حضرت امام حسین پاک عطا کیے گئے ،جب لوگوں نے اپنی طبیعت سے مسئلہ نکالنا شروع کر دیا تو امام اعظم ابوحنیفہ جیسے مجتھدین عطا کئے گئے اور جب عوام و خواص نفس پرستی کے شکار ہوئے تو لوگوں کو اس سے نجات دلانے کے لئے غوث اعظم عطا کیے گئے جب بر صغیر ہند و پاک وغیرہ میں اسلام کی خدمت و نصرت، رشد و ہدایت کا وقت آیا تو غریب نواز عطا کیے گئے، سرکار مخدوم پاک کچھوچھوی عطا کیے گئے ،یہ سلسلہ اسی طر ح چلتا رہا یہاں تک کہ کچھ ملت فروشتوں نے عالموں کالبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو بہکانے اور ان کوکافر و مرتد بنانے کی ناپاک کوشش کی اور سرکار کی ذات کو ،سرکار کی عظمت و رفعت ، شرافت و صداقت علم وحکمت وغیرہ پر ناپاک حملے شروع کردیے تو اللہ عزوجل نے اپنے محبوب کے صدقہ میں امت محمدی کو کچھوچھہ مقدسہ میں سرکار علی حسین اشرفی میاں تو بریلی شریف میں امام احمد رضا عطا فرمایا سیدی اعلی حضرت نے اپنے علم و عمل ، تحریر و تقریر ، درس و تدریس کے ذریعہ اسلام کی ایسی خدمت فرمائی کے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ آپ نے قوم کو جہاں محققین و مصنفین ، مفسرین و محدثین وغیرہ عطا فرمایا وہیں آپ نے کتابوں کی شکل میں نایاب عظیم علمی خدمات انجام دیں مگر ضرورت ایک ایسے علمی کار خانہ کی تھی جس میں ایسے کامیاب افراد کو نکالاجائے جو تعلیمات رضا و فیض رضا کو چپہ چپہ قصبہ قصبہ قریہ قریہ ملک ملک ڈگر ڈگر نگر نگر گھر گھر لے جائے تو بغیر مبالغہ کے یہ حق بات کہی جاسکتی ہے کہ جس نے تعلیم رضا کو گھر گھر پہنچانے والے کو تیار کرنے کے لیے علمی کارخانہ بنایا اسی ہستی کا نام حافظ ملت ہے اور سرکار حافظ ملت علیہ الرحمہ جب مبارک پور تشریف لائے مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم میں تو کوئی دھن و دولت لیکر نہیں آئے تھے بلکہ رسول و آل رسول کے فیض و برکات سے اپنے قلوب و اذہان ، فکر ونظر کو معمور کرکے آئے تھے اسی لیے لاکھ مخالفین ہوئے کیسی کیسی مصیبت آئی مگر آپ کے عظیم عزم مصمم میں لغزش نہ پیدا کر سکی آپ دن میں تیرہ تیرہ کتابوں کا درس دیتے، رات میں گستاخان خدا و رسول کے اعتراضات کا رندہ شکن جواب دیتے، مثلا علامہ یاسین اختر مصباحی علیہ الرحمہ مبارک پور میں سرکار حافظ ملت کی تشریف آوری وعظ و نصیحت ، تحریر و تقریر اور مخلصانہ دینی خدمات کے بارے قلم طراز ہیں : مبارک پور جامع مسجد راجہ مبارک شاہ اور قصبہ کے ایک بااثر شخصیت حاجی محمد عمر کے یہاں ہونے والی تقریروں کا چرچہ ہوا مخالفت کمیٹی میں کھلبلی مچ گئی اور مولوی شکر اللہ مبارک پوری کی جوابی تقریر ہوئی عوام نے آپ سے جواب الجواب کی فرمائش کی آپ نے فرمایا میں یہاں کام کر نے آیا ہوں اگر جوابوں میں الجھ گیا تو اصل کام میں رخنہ پڑے گا یہ جوابی سلسلہ نہ شروع کیا جائے لیکن عوامی اصرار کو دیکھتے ہوئے آپ نے بھی جوابی تقریریں کی اس کے بعد مناظرانہ تقریروں کا سلسلہ ایسا شروع ہواکہ پورے چار ماہ تک چلتا رہا حافظ ملت علیہ الرحمہ دن میں تیرہ اسباق پڑھاتے تھے رات میں جوابی تقریریں کرتے تھے اس محنت و مصروفیت کو دیکھتے ہوئے مخلصین نے عرض کیا کہ باہر سے علماء و خطبا کو مدعو کرکے ان کی تقریریں کرائی جائے لیکن آپ نے ارشاد فرمایا میں اس خدمت کے لیے تنہا کافی ہوں ایسے ہی ایک پر ہجوم جلسہ کی تقریر سننے کے بعد مبارک پور کے داروغہ صحیم احمد نے کھڑے ہو کر بر ملا کہا مجھے عہدہ کے لحاظ سے کچھ کہنا نہیں چاہیے لیکن میں کچھ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ میں دونوں طرف کے جلسوں میں شریک ہو کر تقریر سنتا رہا اب مجھے یہ کہنے میں کوئی خوف نہیں کہ حق آپ کے ساتھ ہے اور میں آپ کے فتح کا اعلان کرتا ہوں اور یہ کیا تھا آل رسول کا فیض ہی تو تھا کیوںکہ آپ صرف ظاہری نام لینے والے نہیں تھے بلکہ آپ کا ظاہر و باطن سب اس نفوس قدسیہ پر قربان تھا اور قربان کیوں نہ ہوجب کہ آپ نے جس مقدس شخصیت سے علم و ادب کا سوغات لیا وہ ذات کسی اور کی نہیں تھی بلکہ نگاہ رضا سے جامۂ محبت پی کر سارے عالم میں درس محبت بانٹنے والی ذات تھی جسے صدر الشریعہ کہا جاتا ہے اور آپ نے اپنے آپ کو جس ولی کامل کے دست مبارک پر پیش کر دیا اس ذات والاکا نام ہم شبیہ غوث اعظم سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں ہیں ۔ حضور سید العلما علیہ الرحمہ نے اشرفیہ کے تعلیمی کانفرنس میں فرمایا تھا کہ اشرفیہ اور حافظ ملت کے ساتھ آل رسول ہیں اور جس کے ساتھ آل رسول ہیں اس کے ساتھ رسول پر نور علیہ وآلہ وسلم ہیں ضرورت پیش آئی تو آل رسول اپنے مریدین و مخلصین کو ساتھ لیکر اس کے لیے ہرطرح کی قربانیاں پیش کرے گا یہی تو وجہ ہے کہ آپ اشرفیہ اور اس کی خدمتوں پر نظر ڈالیں گے تو یہ بات آپ پر عیاں ہو جائے گی کہ آج خانقاہوں کے سجادہ نشیں ہوں یا دار الافتاؤں کے مسند نشیں ہوں میدان صحافت و خطابت کے شہسوار ہوں یا درس و تدریس کے علمی میناروں کی زینت ہوں اسی فیصد حضرات واسطہ یا در واسطہ اشرفیہ ہی کے فرزندوں میں اور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے فیض علمی سے فیضیاب ہو کر سارے عالم کو فیضیاب کر رہا ہے کہیں اور کہیں جانے کی ضرورت نہیں صرف بنگال ہی پر نظر ڈالیں یہاں علمی خدمت کرنے والے ادارے و عشق رسول کی ضیا روشن کرنے والے علما اور علم و ادب کی رمق کو تازگی بخش نے والے اساتذہ کو دیکھیں تو ان میں نمایا حافظ ملت ہی کے فیض یافتہ نظر آئیں گے۔ اللہ پاک سرکار حافظ ملت علامہ عبد العزیز اشرفی علیہ الر حمہ کے علمی فیضان سے ہر خاص و عام کو فیضیاب فرمائے اور ان کے مشن میں شبانہ روز ترقیاں عطا فرمائے۔ آمین

 


whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A