سوال نمبر 32:کھڑےہوکر داڑھی میں کنگھا کرنا کیسا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب : حضرت سیّدنا وہب بن منبہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جو کھڑا ہوکر داڑھی میں کنگھا کرے گا اس پر قرض چڑھےگا اور بیٹھ کر کرےگا اس سے قرض اترےگا ۔
(حوالہ: الحاوی للفتاوی جلد 2 پیج نمبر,47,46 دارلفکر بیروت۔)* واللہ اعلم بالصواب
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
زمرہ: داڑھی میں کنگھا کرنا کیسا ہے؟
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 25-06-2025
اللھم ہدایة الحق والصواب صورت مسئولہ
اگر باقاعدہ طور پرکسی نے وصیت کی تھی کہ " ان کے میراث سے اسے دیا جاۓ" اور اگر اس کے پاس ثبوت شرعی موجود ہے تو جتنے کی وصیت تھی کفن و دفن اور دیگر واجبی حقوق و قرض کی ادائیگی کے بعد کل ترکہ کے ایک تہائی یا اس سے کم ہے تو اتنے میں وصیت نافذ کی جاۓ گی اور اگر ایک تہائی سے زیادہ ہے تو بقدر ایک تہائی وصیت ہوگی۔
:"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين. ولاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية ... ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."
(فتاوی ہندیہ جلد 6)
نیز وہ وراثت کے طور پر کسی چیز کی حقدار نہیں ہے جو اس کے چچا نے چھوڑا ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
کتبہ
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی کولکاتا ۔ 46
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
زمرہ: میراث
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 20-03-2025
محترم جناب مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
سوال:- (١) والدہ محترمہ کی عمر تقریباً 80 سال ہے اور انہیں استنجاء کا پروبلم ہے اچانک زور سے پیشاب آ جاتا ہے واش روم جاتے جاتے کپڑے میں ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے تو کیا طواف وسعی میں"پیمپرش" کا استعمال کیا جاسکتا ہے ؟
(٢) طواف وسعی ویل چیئر/اسکوٹر پر کرانے سے کیا ہمیں"رمل" کرنا ہوگا ؟
محمد عرفان آدرا ضلع پرولیا مغربی بنگال
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب و
اللھم ہدایۃ الحق والصواب
صورت مسئولہ میں حالت إحرام ہر ایسی چیز کا استعمال ممنوع ہے جو بدن کی ساخت و ہیئت پر سلا گیا ہو، اگر پیمپر انڈر ویئر کی طرح ہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے بصورت دیگر ایسا نہ ہو بلکہ اس کو باندھا یا چپکایا جاتا ہو تو ضرورت کے وقت اجازت ہے ورنہ نہیں۔ اگر کسی نے سلا ہوا کپڑا بمجبوری استعمال کیا تو دم اس وقت لازم ہوگا جب ایک رات یا ایک دن یا اس سے زیادہ مدت ہو اور اگر اس سے کم ہے تو صدقہ دینا ہوگا۔
فالمحرم لایلبس المخیط جملۃ، ولا قمیصا ولا قباء، ولا جبۃ، ولا سراویل، ولا عمامۃ، ولا قلنسوۃ، ولا یلبس خفین الا ان یجد نعلین، فلا بأس أن یقطعہما أسفل الکعبین فیلبسہما۰ (بدائع الصنائع) وشد الھیمان فی وسطہ ، سواء کانت النفقة لہ او لغیرہ ، و سواء کان فوق الازار او تحتہ ، لانہ لم یقصد بہ حفظ الازار ، بخلاف اذا شد ازارہ بحبل مثلا ۔ ( غنیة الناسک )
لہذا مریضہ کے لیے پیمبرش کا استعمال جائز ہے کہ لأن الضرورات تبيح المحظورات البتہ مريضہ پر فدیہ واجب ہونے کی صورت میں تین دنوں کا روزہ رکھے یا چھ مسکینوں پر نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت تصدق کرے یامریضہ کی طرف سے ایک بکری کی قربانی دی جائے۔ (ملخصا فتاوٰی رضویہ وبہار شریعت)
2۔ واضح رہے کہ جس طواف کے بعد سعی ہے اسی طواف میں کسی کو تکلیف دیے بغیر پہلے تین چکروں میں رمل کرنا سنت ہے اور اس کے ترک سے دم لازم نہیں آتا ۔ ویل چیر پر کرانے والا اگر بہ نیت رمل اپنے سینےکو تان کر اکڑتے ہوۓ رفتار کو بڑھا دیا تو رمل ہوگئی۔
اگر الیکٹرک گاڑی پر کرا رہا ہے تو وہ خود نہ بیٹھے بلکہ جو معذور ہے وہی بیٹھے اگر یہ بھی بیٹھ گیا تو اسے الگ سے طواف و سعی کرنا ہوگا۔
۔
ھذا ماظھر لي من العلم و اللہ عندہ حسن الصواب
کتبہ
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
زمرہ: طواف وسعی کا مسلہ
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 18-03-2025
*🌹روزے کے 11 طِبِّی فائدے ...🌹*
مجموعی طَور پر طِبِّی اعتبار سے روزہ اللہ پاک کا بہت بڑا انعام ہے جو ہمیں بہت ساری بیماریوں سے نجات بھی دیتا ہے اور بہت ساری بیماریوں سے محفوظ بھی رکھتا ہے۔
*(1)...* روزے کی برکت سے معدے (Stomach) کی تکالیف ، اس کی بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور نظامِ اِنْہِضام (Digestive System) بہتر ہو جاتا ہے
*(2)...* روزہ شوگر لیول ، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اِعْتِدال لاتا ہے اور اس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے (Heart Attack) کا خطرہ نہیں رہتا
*(3)...* روزے کی برکت سے جسمانی کھچاؤ ، ذہنی تناؤ ، ڈپریشن اور نفسیاتی اَمْراض کا خاتمہ ہوتا ہے
*(4)...* روزے کی برکت سے موٹاپے میں کمی آتی اور اِضافی چربی ختم ہوجاتی ہے
*(5)...* روزے کی برکت سے بے اولاد خواتین کے ہاں اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں
صراط الجنان ، پارہ : 2 ، سورۂ بقرہ ، زیرِ آیت : 184 ، جلد : 1 ، صفحہ : 293۔
*(6)...* روزے کی برکت سے قُوَّتِ مدافعت بڑھتی ہے
*(7)...* روزے کی برکت سے آدمی بُرے خیالات سے بچتا ہے یوں ذہن صاف رہتا ہے
*(8)...* روزے کی برکت سے اِنْسَولِین استعمال کرنے میں کمی آتی ہے
*(9)...* روزے کی برکت سے جگر کے ارد گرد جمع ہونے والی چربی کم ہو جاتی ہے
*(10)...* روزے کی برکت سے جلد اور چھاتی کے کینسر کا خطرہ کم رہتا ہے
*(11)...* روزے کی برکت سے اعصابی امراض میں بہتری آجاتی ہے۔
مصنف: -
زمرہ: روزے کے 11 طِبِّی فائدے ...
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 09-03-2025
سائل : محمد جنیدانصاری نوادہ
الجواب
حالت جنابت میں خاتون کا اپنے بچے کو دودھ پلانا جائز ہے چوں کہ جنابت نجاست حقیقیہ نہیں بلکہ نجاست حکمیہ ہے۔ شریعت مطہرہ نے نجاست حکمیہ غسل فرض ہونے کی صورت میں نماز، تلاوت قرآن پاک، دخول مسجد وغیرہ کی ممانعت ہے اس کے علاوہ جنبی کا پسینہ ، لعاب وغیرہ پاک ہی رہتے ہیں ۔ لہذا دودھ پلانے کے لیے طہارت ضروری نہیں ہے ہاں بہتر ہے کہ غسل کرلے پلاۓ لیکن کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جلد از جلد غسل فرض کرلے اتنی تاخیر نہ ہو ورنہ اگر نماز قضا ہوگئی تو گناہ ہوگا۔ والله عندہ حسن الصواب
کتبہ
فقیر اشرفیمحمد وسیم خان اشرفی جالوی
کولکاتا۔
مصنف: فقیر اشرفیمحمد وسیم خان اشرفی جالوی
زمرہ: حالت جنابت میں خاتون کا اپنے بچوں کو دودھ پلانا کیسا ہے؟
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 25-12-2024
اللھم ھدایة الحق والصواب
*صورت مسئولہ میں " الیقین لا یزول بالشک " کے پیش نظر اگر واقعی میں وضو کے ٹوٹنے کا صرف شک ہے تو شک سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہو لہذا شک کی وجہ سے دوبارہ وضو بنانے کی ضرورت نہیں اسی وضو پر اکتفا کر تے ہوۓ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ جیساکہ کتب فقہ میں ہے: ولو ایقن بالطھارة و شک بالحدث او بالعکس اخذ بالیقین (تنویر الابصار مع الدر المختار جلد اول) اگر طہارت کا یقین ہو اور حدث میں شک واقع ہو جاۓ یا پھر اس کا برعکس ہو تو اس صورت میں جس کا یقین ہو اسے لیا جاۓ گا ۔ " حاصلہ انہ اذا علم سبق الطھارة و شک فی عروض الحدث بعدھا او بالعکس اخذ بالیقین و ھو السابق ( رد المحتار مع الدر المختار ، کتاب الصلاة ، جلد اول) ھذا ماظھر لی من العلم و العلم عند اللہ تعالی عزوجل*
کتبہ
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی
قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا 46
*Sawal(31)*
Ulama e kiram ki bargah me arz hai ke zaid asr ki namaz ke liye wazu banaya phir maghrib ki namaz ke waqt wazu me shak hogaya ke wazu hai ya phir toot gaya to aisi soorat me dobara wazu banana zaruri hai ya usi wazu par iktifa kiya ja sakta hai ?
Jawab inayat farma kar shukrya ka mauqa dein.
Almustafti : Hafiz Abdurrahmaan Teghi muzaffarpur..
*Jawaab:*
Soorate masoolah me " Al' Yaqeenu la'yazoolu Bish'shak" ke peshe nazar agar Waqeyi me wazu ke tootne ka sirf shak hai to shak se wazu nahi toot’ta jabtak wazu tootne ka yaqeen na ho lihaza shak ki wajah se dobara wazu banane ki zarurat nahi usi wazu par iktifa karte huye namaz parh sakte hain. Jaisa ke kutube fuqh me hai: ولو ایقن بالطھارة و شک بالحدث او بالعکس اخذ بالیقین
( تنویر الابصار مع الدر المختار جلد اول)
Agar tiharat ka yaqeen ho aur hadas me shak waqe ho jaye ya phir uska bar'aks ho to us soorat me jiska yaqeen ho use liya jayega. wallahu aalamu.
faqeer Ashrafi
Md wasim khan ashrafi
Qaderi Samnani Darul ifta kolkata.
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی
زمرہ: -
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 19-12-2024
سوالات :
1۔ بڑا حوض کسے کہتے ہیں ؟
2 ۔ بڑے حوض میں نجاست گر جاۓ تو اس کا کیا حکم ہے ?
3۔ چھوٹا حوض کسے کہتے ہیں ؟
4۔ چھوٹے حوض میں اگر نجاست گرجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب و ھو الھادی والصواب
1۔ حوض کبیر وہ حوض ہے جو دہ در دہ ہو یعنی دس ہاتھ لنبا، دس ہاتھ چوڑا، یوں ہی بیس ہاتھ لنبا ، پانچ ہاتھ چوڑا ، یا پچیس ہاتھ لنبا ، چار ہاتھ چوڑا غرض کل لنبائی چوڑآئی سو ہاتھ ہو نیز موجودہ 225 مربع اسکوائر فٹ ہو تو وہ بڑا حوض ہے ۔
2- بڑے حوض میں اگر ایسی نجاست گری جو نظر نہ آرہی ہے مثلا پیشاب ، خون ، شراب وغیرہ تو اس کے چاروں طرف غسل و وضو جائز ہے بصورت دیگر اگر ایسی نجاست گر گئی جو مرئیہ ہےے اور اس کے اوصاف ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف بھی نہیں بدلا تو پاک ہے اور اس کے دوسرے کنارے سے غسل و وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر کوئ وصف تبدیل ہو گیا تو ناپاک ہے۔
3 - حوض صغیر وہ حوض ہے جو دہ در دہ یعنی 225 اسکوائر فٹ سے کم ہو۔۔
4 - چھوٹے حوض میں اگر تھوڑی سی بھی نجاست گر جاۓ تو پورا پانی ناپاک ہوجاۓے گا خواہ رنگ مزہ، بو بدلے یا نہ بدلے۔واللہ اعلم بالصواب ( بدائع الصنائع ، فتاوی رضویہ )
کتبہ
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا ۔ 46
Sawalaat :
27- Bara hauz kise kahte hain?
28- Bare hauz me nijasat girjaye to uska kya hukm hai?
29- chota hauz kise kahte hain?
30- chote hauz me agar
nijasat gir jaye to uska kya hukm hai?
Jawabaat:
27- Hauz e kabeer woh hauz hai jo dah dar dah ho yani 10 haath lamba, 10 haath chaura, yunhi 20 haath lambba, 5 haath chaura, ya 25 haath lamba, 4 haath chaura gharz kul lambai chauraaui 100 ho neez maujoodah 225 murabba square feet ho to woh bara hauz hai.
28 - bare hauz me agar aisi nijasat giri jo nazar na aa rahi hai masalan peshaab, khoon, sharaab waghaira to uske charoon taraf ghusl o wazu jaiz hai basoorat e digar agar aisi nijasat gir gayi jo maryiya hai aur uske ausaaf e salasa me se koi ek wasf bhi nahi badla to paak hai aur uske dusare kinare se ghusl o wazu karne me koi harj nahi aur agar koi wasf tabdeel ho gaya to na'paak hai.
29 - hauz e sagheer woh hauz hai jo dah dar dah yani 225 square feet se kam ho.
30 - Chote hauz me agar thori si bhi nijasat gir jaye to poora pani na'paak ho jayega khwaah rang mazah, boo badle ya na badle.
Wallahu Aalamu Bissawab.
Faqeer Ashrafi
Md wasim khan asshrafi
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا ۔ 46
زمرہ: نجاست کا حکم
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 16-12-2024
اگر نجاست کا اثر پانی میں ظاہر ہو جاے تو اس کا کیا حکم ہے۔۔۔۔۔۔؟؟
جواب: اگر نجاست کے گرنے کی وجہ سے اوصاف ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف بھی تبدیل ہوگیا تو پانی ناپاک ہو جاے گا بصورت دیگر(اوصاف ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف بھی تبدیل نہیں ہوا تو) پانی ناپاک نہیں ہوگا۔۔
وبتغیر أحد أو صافه من لون أو طعم أو ریح بنجس الکثیر و لو جاریا اجماعا۔(درمختار مع الشامی بیروت جلد اول ) إذا لاقى الماءَ نجاسةٌ، فغيَّرَت أحَدَ أوصافِه: مِن طَعمٍ، أو لونٍ، أو رائحةٍ؛ فهو نجِسٌ، قليلًا كان أو كثيرًا.
(الموسوعة الفقھیة، کتاب الطھارة) والله أعلم بالصواب
كتبه
محمد وسیم أصغر خان اشرفی جالوی عفی عنه
دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کولکاتا ۴۶
Sawal (26): Agar Nijaasat ka asar pani mei'n zaahir ho jaye to uska kiya hukm hai...?
*Jawab* : Agar Nijaasat ke girne ki wajah se ausaafe salasa mei'n se koi ek wasf bhi tabdeel ho gaya to pani na-pak ho jayega basoorat e digar (ausaafe salasa mei'n se koi ek wasf bhi tabdeel nahi hua to) pani na-pak nahi'n hoga.
وبتغیر أحد أو صافه من لون أو طعم أو ریح بنجس الکثیر و لو جاریا اجماعا۔(درمختار مع الشامی بیروت جلد اول ) إذا لاقى الماءَ نجاسةٌ، فغيَّرَت أحَدَ أوصافِه: مِن طَعمٍ، أو لونٍ، أو رائحةٍ؛ فهو نجِسٌ، قليلًا كان أو كثيرًا.(الموسوعة الفقھیة، کتاب الطھارة)
Wallahu Alamu Bissawab
Faqeer Ashrafi
muhammad wasim asghar khan ashrafi
Qaderi Samnani Darul ifta kolkata. 700046
مصنف: محمد وسیم أصغر خان اشرفی جالوی عفی عنه
زمرہ: نجاست کا اثر
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 10-12-2024
اللہ تبارک و تعالی کا بے پناہ احسان و شکر ہے کہ اس نے ہماری رہنمائی کے لیے انبیاء کرام ا ور رسولان عظام کو مبعوث فرمایا یہاں تک اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے خاتم النبیین بناکر بھیجا ،چنانچہ نہ آپ کے زمانے میں اورنہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی و رسول نہیں آسکتا مگر یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ وہ ہدایت و رہنمائی کا کام جو انبیاء کرام و رسولان عظام کر رہے تھے آقا علیہ السلام کےبعد
بھی اس کی ضرورت باقی تھی اور جب تک انسان آتے رہیں گے ضرورت باقی رہے گی ،اس لیے اس کام کے لیے ہر دور میں ان کے نائبین آتے رہیں گے اور جب جب قوم کو ضرورت ہوئی تب تب اللہ رب العزت نے اس قوم کی رہنمائی کے لیےرہبر عطا فرمایا مثلا بعد سرکار منکرین زکاۃ وغیرہ کا جب فتنہ کھڑا ہوا تو اس کی سرکوبی کے لیے حضرت صدیق اکبر و جمیع صحابہ کھڑے ہوئے،جب یزیدی فتنہ اٹھا تو اس کی سرکوبی کے لیے نواسہ رسول حضرت امام حسین پاک عطا کیے گئے ،جب لوگوں نے اپنی طبیعت سے مسئلہ نکالنا شروع کر دیا تو امام اعظم ابوحنیفہ جیسے مجتھدین عطا کئے گئے اور جب عوام و خواص نفس پرستی کے شکار ہوئے تو لوگوں کو اس سے نجات دلانے کے لئے غوث اعظم عطا کیے گئے جب بر صغیر ہند و پاک وغیرہ میں اسلام کی خدمت و نصرت، رشد و ہدایت کا وقت آیا تو غریب نواز عطا کیے گئے، سرکار مخدوم پاک کچھوچھوی عطا کیے گئے ،یہ سلسلہ اسی طر ح چلتا رہا یہاں تک کہ کچھ ملت فروشتوں نے عالموں کالبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو بہکانے اور ان کوکافر و مرتد بنانے کی ناپاک کوشش کی اور سرکار کی ذات کو ،سرکار کی عظمت و رفعت ، شرافت و صداقت علم وحکمت وغیرہ پر ناپاک حملے شروع کردیے تو اللہ عزوجل نے اپنے محبوب کے صدقہ میں امت محمدی کو کچھوچھہ مقدسہ میں سرکار علی حسین اشرفی میاں تو بریلی شریف میں امام احمد رضا عطا فرمایا سیدی اعلی حضرت نے اپنے علم و عمل ، تحریر و تقریر ، درس و تدریس کے ذریعہ اسلام کی ایسی خدمت فرمائی کے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ آپ نے قوم کو جہاں محققین و مصنفین ، مفسرین و محدثین وغیرہ عطا فرمایا وہیں آپ نے کتابوں کی شکل میں نایاب عظیم علمی خدمات انجام دیں مگر ضرورت ایک ایسے علمی کار خانہ کی تھی جس میں ایسے کامیاب افراد کو نکالاجائے جو تعلیمات رضا و فیض رضا کو چپہ چپہ قصبہ قصبہ قریہ قریہ ملک ملک ڈگر ڈگر نگر نگر گھر گھر لے جائے تو بغیر مبالغہ کے یہ حق بات کہی جاسکتی ہے کہ جس نے تعلیم رضا کو گھر گھر پہنچانے والے کو تیار کرنے کے لیے علمی کارخانہ بنایا اسی ہستی کا نام حافظ ملت ہے اور سرکار حافظ ملت علیہ الرحمہ جب مبارک پور تشریف لائے مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم میں تو کوئی دھن و دولت لیکر نہیں آئے تھے بلکہ رسول و آل رسول کے فیض و برکات سے اپنے قلوب و اذہان ، فکر ونظر کو معمور کرکے آئے تھے اسی لیے لاکھ مخالفین ہوئے کیسی کیسی مصیبت آئی مگر آپ کے عظیم عزم مصمم میں لغزش نہ پیدا کر سکی آپ دن میں تیرہ تیرہ کتابوں کا درس دیتے، رات میں گستاخان خدا و رسول کے اعتراضات کا رندہ شکن جواب دیتے، مثلا علامہ یاسین اختر مصباحی علیہ الرحمہ مبارک پور میں سرکار حافظ ملت کی تشریف آوری وعظ و نصیحت ، تحریر و تقریر اور مخلصانہ دینی خدمات کے بارے قلم طراز ہیں : مبارک پور جامع مسجد راجہ مبارک شاہ اور قصبہ کے ایک بااثر شخصیت حاجی محمد عمر کے یہاں ہونے والی تقریروں کا چرچہ ہوا مخالفت کمیٹی میں کھلبلی مچ گئی اور مولوی شکر اللہ مبارک پوری کی جوابی تقریر ہوئی عوام نے آپ سے جواب الجواب کی فرمائش کی آپ نے فرمایا میں یہاں کام کر نے آیا ہوں اگر جوابوں میں الجھ گیا تو اصل کام میں رخنہ پڑے گا یہ جوابی سلسلہ نہ شروع کیا جائے لیکن عوامی اصرار کو دیکھتے ہوئے آپ نے بھی جوابی تقریریں کی اس کے بعد مناظرانہ تقریروں کا سلسلہ ایسا شروع ہواکہ پورے چار ماہ تک چلتا رہا حافظ ملت علیہ الرحمہ دن میں تیرہ اسباق پڑھاتے تھے رات میں جوابی تقریریں کرتے تھے اس محنت و مصروفیت کو دیکھتے ہوئے مخلصین نے عرض کیا کہ باہر سے علماء و خطبا کو مدعو کرکے ان کی تقریریں کرائی جائے لیکن آپ نے ارشاد فرمایا میں اس خدمت کے لیے تنہا کافی ہوں ایسے ہی ایک پر ہجوم جلسہ کی تقریر سننے کے بعد مبارک پور کے داروغہ صحیم احمد نے کھڑے ہو کر بر ملا کہا مجھے عہدہ کے لحاظ سے کچھ کہنا نہیں چاہیے لیکن میں کچھ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ میں دونوں طرف کے جلسوں میں شریک ہو کر تقریر سنتا رہا اب مجھے یہ کہنے میں کوئی خوف نہیں کہ حق آپ کے ساتھ ہے اور میں آپ کے فتح کا اعلان کرتا ہوں اور یہ کیا تھا آل رسول کا فیض ہی تو تھا کیوںکہ آپ صرف ظاہری نام لینے والے نہیں تھے بلکہ آپ کا ظاہر و باطن سب اس نفوس قدسیہ پر قربان تھا اور قربان کیوں نہ ہوجب کہ آپ نے جس مقدس شخصیت سے علم و ادب کا سوغات لیا وہ ذات کسی اور کی نہیں تھی بلکہ نگاہ رضا سے جامۂ محبت پی کر سارے عالم میں درس محبت بانٹنے والی ذات تھی جسے صدر الشریعہ کہا جاتا ہے اور آپ نے اپنے آپ کو جس ولی کامل کے دست مبارک پر پیش کر دیا اس ذات والاکا نام ہم شبیہ غوث اعظم سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں ہیں ۔ حضور سید العلما علیہ الرحمہ نے اشرفیہ کے تعلیمی کانفرنس میں فرمایا تھا کہ اشرفیہ اور حافظ ملت کے ساتھ آل رسول ہیں اور جس کے ساتھ آل رسول ہیں اس کے ساتھ رسول پر نور علیہ وآلہ وسلم ہیں ضرورت پیش آئی تو آل رسول اپنے مریدین و مخلصین کو ساتھ لیکر اس کے لیے ہرطرح کی قربانیاں پیش کرے گا یہی تو وجہ ہے کہ آپ اشرفیہ اور اس کی خدمتوں پر نظر ڈالیں گے تو یہ بات آپ پر عیاں ہو جائے گی کہ آج خانقاہوں کے سجادہ نشیں ہوں یا دار الافتاؤں کے مسند نشیں ہوں میدان صحافت و خطابت کے شہسوار ہوں یا درس و تدریس کے علمی میناروں کی زینت ہوں اسی فیصد حضرات واسطہ یا در واسطہ اشرفیہ ہی کے فرزندوں میں اور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے فیض علمی سے فیضیاب ہو کر سارے عالم کو فیضیاب کر رہا ہے کہیں اور کہیں جانے کی ضرورت نہیں صرف بنگال ہی پر نظر ڈالیں یہاں علمی خدمت کرنے والے ادارے و عشق رسول کی ضیا روشن کرنے والے علما اور علم و ادب کی رمق کو تازگی بخش نے والے اساتذہ کو دیکھیں تو ان میں نمایا حافظ ملت ہی کے فیض یافتہ نظر آئیں گے۔ اللہ پاک سرکار حافظ ملت علامہ عبد العزیز اشرفی علیہ الر حمہ کے علمی فیضان سے ہر خاص و عام کو فیضیاب فرمائے اور ان کے مشن میں شبانہ روز ترقیاں عطا فرمائے۔ آمین
مصنف: از محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ ، قادری سمنانی دار الافتا تلجلا روڈ کولکاتا
زمرہ: حافظ ملت
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 07-12-2024
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر زید غیر مسلموں کے میلے میں جاتا ہو اور پوجاپر مبارکبادی پیش کرتا ہو تو اس پر شریعت کا کیا حکم نافذ ہوگا جواب عطا فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
المستفتی : شیخ محمد نور عالم توپسیا کولکاتا ۔
www.qewt.in
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب ھو الھادي و الصواب
صورة مسئولہ میں زید کا غیر مسلموں کے میلےاورتہواروں میں شریک ہوکران کےمیلےاوران کےمذہبی جلوس کی شان وشوکت بڑھاناکفرہے اور اس پر مبارک بادی دینا بھی عندالفقھاءکفر ہے۔لھذازید پر توبہ وتجدیدایمان اور شادی شدہ ہے تو تجدیدنکاح بھی ضروری ہے۔ حدیث پاک میں ہے " من کثّر سواد قوم فھو منھم " جس شخص نے کسی قوم کی جماعتی تعداد میں اضافہ کیا تو وہ انہی میں سے ہے ۔Ji (فتاوی رضویہ ) واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
فقیر اشرفی
محمدوسیم خان اشرفی جالوی
قادری سمنانی دارالافتا ۔ کولکاتا 46۔
Assalam u Alaikum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuh.
Kya farmate hain Ulama e kiram wa Muftiyane izam is mas'alah mei'n ke agar zaid ghair muslimon ke mele mei'n jata ho aur poojha par mubarak badi pesh karta ho to usparshareeat ka kiya hukm na'fiz hoga jawab ata farma kar shukriya ka mauqa inayat farmayein.
shareeat ka kiya hukm na'fiz hoga jawab ata farma kar shukriya ka mauqa inayat farmayein.
Almustafti : Sk Muhammad Noor Alam Topsia kolkata.
Wa Alaikum Assalam wa Rahmatullahi wa Barakatuh
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب ھو الھادي والصواب
soorat e mas'oolah mei'n zaid ka ghair muslimon ke mele aur tahwaron mei'n sharik hokar unke mele aur unke mazhabi juloos ki shan o shaukat barhana kufr hai ar uspar mubarakbadi dena bhi indal'fuqahaa kufr hai. Lihaza zaid par tauba wa tajdid e imaan aur shadi shuda hai to tajdeed e nikaah zaruri hai. Hadis e pak mei'n hai.
" من کثر سواد قوم فھو منھم"
jis shakhs ne kisi qaum ki jama'ati tadaad mei'n izafa kiya to woh unhi mei'n se hai. ( fatawa rizwiya) wallahu aalamu bissawab.
Faqeer ashrafi
Muhammad wasim khan ashrafi jalwi.
مصنف: محمدوسیم خان اشرفی جالوی
زمرہ: شریعت کا حکم
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 30-11-2024
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.