29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

صدقہ فطر کی اہمیت اور احکام

مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ Post Date: 2026-03-19

صدقہ فطر کی اہمیت اور احکام

صدقہ فطر کی اہمیت اور احکام


(تحریر: مفتی محمد وسیم اصغر خاں اشرفی جالوی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کولکاتا)


رسول اللہ ﷺ کا یہ مبارک عمل ہے اور حکم شریعت بھی ہے کہ فطرہ تقسیم کیا جائے اور فطرہ کا مقصد اللہ کے رسول علیہ وآلہ وسلم نے یہ بتایا کہ یومِ عید سعید غریب سے غریب شخص فاقہ کش، لاچار اور محتاج کے گھروں کا چولہا روشن ہو اور اس کے اہل و عیال کو بھی عید کی مسرت و شادمانی نصیب ہو۔۔کوئ بھی فاقہ کشی نہ کرے۔۔آج تو ہم عید کی خوشی میں ہر چیزکو فراموش کر جاتے ہیں، ہم حضور علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھول چکے ہیں۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص فطرہ ادا نہیں کرتا، اس کے ماہِ رمضان کے روزے زمین اور آسمان کے درمیان معلق(لٹکے)رہتے ہیں جب تک صدقہ فطر ادا نہ کیا جائے۔" جب انسان ادا کر دیتا ہے تو اس کے روزے کو دو سبز پر عطا کر دیے جاتے ہیں جن کے ساتھ وہ پرواز کرتے ہوئے ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں، پھر ان کو عرش کے ساتھ معلق قندیلوں میں سے ایک میں لکھ دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ روزہ دار اس تک پہنچ جائیں گے تو اپنے اعمال کو محفوظ پائیں گے۔ (نزہۃ المجالس، فقیہ ابواللیث)


حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"فطرہ روزوں کے لیے ایسا ہے جس طرح نماز کے لیے سجدہ سہو۔ صدقہ فطر ادا کرنے اور تراویح کی نماز ادا کرنے سے روزوں کی کمی پوری ہو جاتی ہے، کیونکہ نیکیاں تمام برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔"

صدقہ فطر ہر مسلمان عاقل، بالغ پر واجب ہے، اگرچہ اس نے روزہ نہ بھی رکھا ہو، اور  شبِ عید میں غروبِ آفتاب سے پہلے ہی کوئی بچہ کیوں نہ پیدا ہوا ہو۔۔اس کابھی صدقئہ فطر اداکرناہے ولی پر۔۔


صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت:


صدقئہ فطر عید کے دن نمازعیدکےلئے  جانے سے پہلے ادا کرنا چاہیے، اگر کوئی آدمی عید کی نماز سے قبل ادا نہیں کر سکا تو وہ اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا بلکہ اسے عید کی نماز کے بعد ادا کر ناپڑےگا۔ (بہارِ شریعت)


کس کس کی طرف سے واجب ہے؟


جو آدمی صاحبِ نصاب ہو، وہ مندرجہ ذیل لوگوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے کا ذمہ دار ہے:

اپنی طرف سے۔

اپنے چھوٹے بچے کی طرف سے۔

گھر میں آئے ہوئے مہمان کی طرف سے۔

اگر اس کی بیوی صاحبِ نصاب نہ ہو، تو اس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ (عامہ کتبِ فقہ)


صدقہ فطر کی مقدار:


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "

صدقہ ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو، یا نصف صاع گندم ہے جو ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے ہے۔

صاع کی مقدار:  کھجور یا جو میں چار کلو نو سو گرام کی مقدار ہے، گندم اور انگور تقریبادو کلو پینتالیس گرام ہوتا ہے۔

نوٹ: اگر صدقہ فطر میں مذکورہ بالا اشیاء کی قیمت ادا کی جائے تو وہ افضل ہے، کیونکہ اس سے حاجت مند کی ضرورت بہ آسانی پوری ہو جاتی ہے اور یہی مفتی بہ قول ہے۔


صدقہ فطر ادا کرنے کا انعام:

حضور علیہ السلام سے روایت کیا گیا ہے کہ جو شخص فطرانہ ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس کے بدلے دس انعام عطا فرماتا ہے:

فطرانہ ادا کرنے والا گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔

دوزخ کے عذاب سے نجات پاتا ہے۔

اس کے روزے مقبول ہو جاتے ہیں۔

صدقہ فطر ادا کرنے والا جنت کا حقدار ہو جاتا ہے (بشرطیکہ دوسرے فرائض بھی ادا کرے)

وہ اپنی قبر سے امن و امان کی حالت میں اٹھے گا۔

اس کے پورے سال کے نیک اعمال مقبول ہو جاتے ہیں۔

قیامت کے دن اس کے لیے حضور ﷺ کی شفاعت واجب ہوگی۔۔

پل صراط سے اس کا گزر بجلی کی چمک کی طرح ہوگا۔

اس کی نیکیوں کا پلڑا وزنی ہوگا۔

اس کا نام بدبختوں کی فہرست سے مٹا دیا جائے گا۔۔

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A