قرآن پاک کی سب سے جامع آیت (ماخوذ سہ ماہی مجلہ " القطب ")
از: خلیفۀ قطب المشایخ حضرت علامہ و مولانا محمد ناظر حسین خاں اشرفی جالوی علیھما الرحمہ، بانی : دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ تلجلا روڈ کولکاتا
آیت:
ان الله يأمر بالعدل والاحسان وايتائ ذى القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغى يعظكم لعلكم تذكرون -
ترجمہ:
بے شک اللہ تعالیٰ عدل و احسان اور قرابت داروں سے صلہ رحمی کا حکم فرماتا ہے، اور بد اخلاقی و برائی اور ظلم و زیادتی سے منع فرماتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
یہ آیت مبارکہ سورۃ النحل کی 90 نمبر کی آیت ہے۔ ابن رجب حنبلی کے بقول مفسرین نے اس آیہ مبارکہ کو جوامع الکلم میں شمار کیا ہے۔ (تفسیر ابن رجب حنبلی : 116/1)
ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
وقد قالت العلماء ان اجمع آية للبر والفضل ومكارم الاخلاق قوله عز وجل ان الله يأمر بالعدل والاحسان وايتائ ذى القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغى يعظكم لعلكم تذكرون -
علماء فرماتے ہیں کہ نیکی و بھلائی اور حسنِ اخلاق کے بارے میں سب سے جامع آیت ان الله يأمر بالعدل والاحسان ہے (التمہید : 334/24)
جوامع الكَلِم کا معنیٰ:
محمد بن شہاب زہری کہتے ہیں:
"معناه ان يجمع الله له المسائل الكثيرة فى الفاظ القليلة"
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختصر الفاظ میں بہت سے مسائل جمع فرما دیے ہوں (شعب الایمان : 161/1)
امام بخاری کہتے ہیں:
ہم سے حدیث بیان کی سلیمان بن حرب نے ، ہم سے حدیث بیان کی حماد بن زید نے وہ عاصم سے ، وہ ابوالضحیٰ سے ، انہوں نے کہا کہ مسروق بن اجدع اور شُتیَر بن شَکَل مسجد میں جمع ہوئے تو مسجد میں موجود سارے لوگ ان کی طرف سمٹ آۓ۔
مسروق نے کہا یہ لوگ اکھٹے نہیں ہوئے ہیں مگر اس لیے کہ ہم سے خیر کی باتیں سنیں۔ لہذا یا تو آپ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے سنی ہوئی حدیثیں بیان کریں اور میں تصدیق کروں یا میں سناؤں اور آپ تصدیق کریں۔ شتیر نے کہا اے ابوعائشہ آپ سنائیں چنانچہ مسروق نے کہا کیا آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آنکھیں زنا کرتی ہیں، ہاتھ زنا کرتے ہیں، پیر زنا کرتے ہیں اور شرم گاہ یا تو ایسا ہی کرتی ہے یا ایسا نہیں کرتی ہے۔ شتیر نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا ہاں ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسا سنا ہے۔ مسروق نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حلال و حرام اور امر و نہی کے بارے میں سب سے جامع آیت سورۃ النحل کی یہ آیت **ان الله يأمر بالعدل والاحسان** ہے شتیر نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا ہاں ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسا سنا ہے
(الادب المفرد: جلد 1: صفحہ: 171)
شعبی کی روایت میں ہے:
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قرآن میں سب سے اعلیٰ مضمون کی آیت آیۃ الکرسی یعنی ”الله لا اله الا ھو الحی القیوم“ ہے، خیر و شر کی سب سے جامع
آیت ”ان الله يأمر بالعدل والاحسان“ ہے، وہ آیت جو رب کی بارگاہ میں بندے کی خود سپردگی پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے ”ومن یتق الله یجعل له مخرجا ومن یرزقه من حیث لایحتسب“ وہ آیت جو رب کی بارگاہ میں امید و آس لگانے پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے ”قل یاعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم“ (مصنف عبد الرزاق صنعانی: 370/3)
عکرمہ کہتے ہیں:
ولید بن مغیرہ جو اس زمانے میں عرب کا سب سے بڑا ادیب تھا اس نے جب یہ آیت مبارکہ سنی تو قسم کھا کر کہا:
”والله ان له لحلاوة وان علیه لطلاوة وان اعلاہ لمثمر وان اسفله لمغدق وما یقول هذا بشر“
بخدا یہ بڑا شیریں کلام ہے، اس کا ظاہر بڑا رنگین ہے، اس کی شاخیں پھلدار ہیں اس کا تنا بڑا مضبوط ہے بھلا کوئی انسان بھی ایسا کہہ سکتا ہے۔ (الاعتقاد للبیہقی: 268/1)
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”لم تترک هذہ الآیة خیراً الا امرت به ولا شراً الانہت عنه“
کوئی خیر نہیں ہے جس کا اس آیت مبارکہ میں حکم نہ دیا گیا ہو اور کوئی شر نہیں ہے جس سے اس آیت میں منع نہ فرمایا گیا ہو (تفسیر ابن رجب حنبلی: 116/1)
ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں:
جب اکثم بن صیفی تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر پہنچی۔ جو اس زمانے میں عرب کا سب سے بڑا حکیم و فلسفی تھا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہا مگر اس کی قوم نے اسے روک دیا کہ آپ ہمارے بزرگ ہیں آپ نہ جائیں۔ اکثم بن صیفی نے کہا کہ پھر کوئی آدمی تیار کرو جو ان کی خبر مجھ تک پہنچائے لہذا دو لوگ تیار ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آ کر عرض گزار ہوئے کہ ہم دونوں اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں ہم ان کے کچھ سوالات لے کر آپ کے پاس آئے ہیں یہ بتائیں آپ کون ہیں؟ آپ کیا ہیں اور آپ کیا لے کر آئیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں محمد بن عبداللہ ہوں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور آپ نے یہ آیہ مبارکہ پڑھی **ان الله يأمر بالعدل والاحسان**۔ وہ دونوں قاصد اکثم بن صیفی کے پاس لوٹ کر آئے اور یہ آیت پڑھ کر سنائی تو اپنی قوم سے کہا:
انی اراہ يأمر بمکارم الاخلاق وینہٰی عن ملائمھا فکونوا فی ھذا الامر رؤساء ولا تکونوا فیه اذنابا (الاصابہ فی تمییز الصحابہ)
مجھے سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور برے اخلاق سے روکتے ہیں پھر اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اس معاملے میں سردار کی طرح آگے آگے رہو دُم کی طرح پیچھے پیچھے نہ رہو۔
قاضی بیضاوی کہتے ہیں:
قرآن میں صرف یہی ایک آیت اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ قرآن ”تبیانا لکل شئی“ یعنی ساری چیزوں کا بیان ہے۔ (مقاصد البیان: 300/7)
پیش کش! محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی سربراہ اعلیٰ دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کولکاتا ۔
**☆☆☆☆☆**
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.