29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

عید الفطر یوم سعید یا یوم وعید

محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کولکا Post Date: 2026-03-21

عید الفطر یوم سعید یا یوم وعید

عید الفطر یومِ سعید یا یومِ وعید

مفتی محمد وسیم اصغر خاں اشرفی، ناظم اعلیٰ دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ پنجابی پاڑہ تلجلا روڈ، کولکاتا


زرق برق لباس زیب تن کرنا، عمدہ کھانا تناول کرنا، لہو و لعب اور کھیل تماشوں میں مشغول ہونا، خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل اور شہوت و لذت سے نفع اندوزی کا نام ہرگز عید نہیں ہے بلکہ صاحبِ ایمان کی عید یہ ہے کہ اس کی عبادت کی مقبولیت کی علامت عیاں ہو جائیں اور خطائیں مٹ جائیں، سیئات حسنات میں تبدیل ہو جائیں، زبان پر توحید کی شہادت ہو، کان حق سننے میں مشغول ہوں، قلب معرفت و یقین سے پُر ہو، دل خشیتِ الہی سے دھڑک رہا ہو۔

حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عید کے روز ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ خشک روٹی تناول فرما رہے تھے، اس نے عرض کیا: "آج عید کا دن ہے، اور آپ خشک روٹی کھا رہے ہیں؟" فرمایا: "آج اس کی عید ہے جس کا روزہ قبول ہوا، محنت مشکور ہوئی، گناہ بخشے گئے، آج کا دن بھی ہمارے لئے عید کا دن ہے اور کل کا دن بھی ہمارے لئے عید کا دن ہے اور ہر وہ دن جس میں ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کریں وہ ہمارے لئے عید کا دن ہے۔" (غنیۃ الطالبین ص ۲۷۹)

عید کا دن ہے، ہر طرف مسرت و شادمانی کی لہریں دوڑ رہی ہیں، کوئی ہنس رہا ہے کوئی قہقہے لگا رہا ہے، چہرے پر بشاشت ہے، لبوں پر مسکراہٹ ہے، صحابیِ رسول حضرت عبدالرحمن بن عوف خلیفہ ثانی امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دولت خانہ میں ملاقات کے خاطر حاضر ہوتے ہیں، دیکھتے ہیں امیر المومنین کے آنکھوں سے رشک رواں دواں ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "امیر المومنین آج تو عید ہے مسرت و فرحت کا روز ہے، انبساط اور شادمانی کا یوم ہے۔ یہ بے وقت رونا اور آنسو بہانا کیسا؟" امیر المومنین نے فرمایا: "میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ روزے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک مقبول دوسرا مردود۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے روزے کس شمارے میں رکھے گئے ہیں۔" (زبدۃ الواعظین)

نواسہ رسول اولاد بتول سیدنا سرکار حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اپنے چند اشعار میں فرماتے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے: "عید اس شخص کے نصیب میں نہیں جو محض زرق برق لباس میں ملبوس ہو کر نکلتا ہے اور آنکھوں کو چکا چوند کرتا ہے۔ حقیقی عید اس کے حصہ میں ہے جو اس موقع پر بھی اللہ پاک کی وعیدوں سے خوف کرتا ہے اور خوشیوں کی ہجوم میں ہنس کر بھی حق تعالیٰ کی مرضیات سے تجاوز نہیں کرتا۔"

عید اس شخص کے حصہ میں نہیں جو فاخرانہ انداز میں گھر سے نکلے اور سواریوں پر سوار ہو کر اپنی بڑائی کا ڈنکا بجائے بلکہ حقیقی عید تو اس کی قسمت میں ہے جو اس مسرت و شادمانی کے دن بھی اپنے انجام اور خدا کے سامنے پیشی اور حاضری کو یاد رکھے اور موت کے بعد پیش آنے والے دن سے لرزاں و ترساں رہے۔

اس موقع پر حضور سیدنا غوث الثقلین عبدالقادر جیلانی حسنی و حسینی رضی اللہ عنہ کا قطعہ بھی ملاحظہ ہو۔ حضور غوث پاک کا زمانہ ہے عید کا چاند ہو چکا ہے چند اشخاص حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ حضور کل عید ہے ہمیں کوئی قطعہ مرحمت فرمائیں ۔ حضور غوث پاک فرماتے ہیں:

خلق می گوید کہ فرداں روزے عید است

خوش در روح مومن بدید است

(لوگ کہہ رہے ہیں کل عید ہے اور صاحبِ ایمان خوش ہیں اور شاداں و فرحاں ہیں۔)

برادر ملک خود آں روزے عید است

در آں روزے کہ با ایمان بمیرم

(میری عید اس دن ہے جس دن میں دنیا سے اپنا ایمان سلامت لے کر جاؤں۔)

اللہ اللہ ہمارے اسلاف کی یہ تھی عیدِ سعید اور خشیتِ الہی کا غلبہ۔ حضور غوث پاک کا ارشاد کس قدر روح پرور اور ایمان افروز ہے خدا کی قسم اصل عید یہی ہے ۔ عید دراصل اس کی ہے جس نے ماہ رمضان کے روزے رکھے، تراویح پڑھی جس طرح اس کے محبوب سید الکونین نے روزے رکھے آج انہیں روزہ داروں کے لئے خدائے قدوس کی طرف سے انعامات و اکرامات بخششیں اور عنایتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (نیک روزہ داروں کی) عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے اور فرشتوں سے فرماتا ہے اے فرشتو! اس مزدور کا بدلہ کیا ہے جس نے اپنا کام پورا کر لیا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں: اے پروردگار اس کا صلہ یہ ہے کہ اس کو پوری پوری مزدوری دی جائے۔

"قال ياملاء کتی عبیدی و امائی قضوا فریضتی علیهم ثم خرجو يعجلون الی الدعاء بعزتی و جلالی غفرت بهم و بدلت سيآ تهم بالحسنات"

ارشاد باری ہوتا ہے اے فرشتو! میرے بندوں اور بندیوں نے میرے اس فریضہ کو پورا کر دیا جو ان کے ذمہ تھا اور آج عید کے دن اپنے گھروں سے دعائیں مانگتے ہوئے جلدی جلدی نکلے مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی میں نے انہیں بخش دیا اور ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔ کیا عطا ہے رب ذوالجلال کا کہ آج بن مانگے اجرت اور مزدوری مل رہی ہے کیا فیضان کرم ہے، کیا بخشش و رحمت ہے۔

سورج کو کرن چاند کو ضو دیتا ہے

بجلی کو تڑپ شمع کو لو دیتا ہے

دینے پہ جو آتی ہے کریمی اس کی

مانگے جو کوئی ایک تو سو دیتا ہے

(کوثر ندوی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بندہ مومن کی پانچ عیدیں ہیں۔

جس دن وہ کسی گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔

جب وہ ایمان کی حالت میں اور کلمہ شہادت کا نغمہ گاتے ہوئے شیطان کے مکر و فریب سے اجتناب کرتے ہوئے دنیائے فانی سے رخصت ہوگا۔

جب بروز قیامت صحیح و سالم پل صراط سے گزرے گا دوزخ کے محافظوں اور ملائکہ سے چھٹکارا حاصل کرے گا۔

جب وہ رحمت میں داخل ہوگا اور عذاب جہنم سے نجات پائے گا۔

جب وہ آخرت میں خالق کائنات کے دیدار سے مشرف ہوگا۔

(فقیہ ابواللیث)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

"عید کی رات عبادت کے لئے بیدار رہنے والے کا دل اس دن زندہ ہوگا جب کہ اور لوگوں کا دل مردہ ہوگا۔" (ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیدوں کو تکبیر سے زینت دو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عیدین کو کلمہ تسبیح، و تقدیس، و تحمید، و تکبیر سے مزین کرو۔ (نزہۃ المجالس)

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A