*حضرت ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا* (قسط اول )
____________________
وہ پاکباز خوا تین اسلام جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں رہیں ان کو بنی آدم کے طبقئہ نسواں پر فضیلت اور برتری حاصل ہے ۔ ان ازواج مطہرات کو جو فضیلت حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں ۔ خواہ کوئی شہزادی ہو، عابدہ ہو ،زاہدہ ہو،عالمہ ہو یا شا کرہ ہو ، لیکن وہ ازواج مطہرات کے ہمسر نہیں ہو سکتیں۔ کیوں کہ ان کی نسبت اس ذات ستودہ صفات سے ہے جو تمام انبیا سے ممتاز ومنفرد اور بے مثل و بے مثال ہے ۔سارے جہان کی عورتوں میں امہات المؤمنین وہ خوش نصیب خواتین ہیں جن کی مثل نہ ان سے پہلے کوئی عورت ہوئی اور نہ ان کے بعد کوئی ہو سکتی ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: { ینسآء النبی لستن کاحد من النساء ان اتقیتن فلاتخضعن بالقول فیطمع الذی فی قبلہ مرض و قلن قولا معروفا} (پارہ: 22 ، سورہ : الاحزاب )
اے نبی کی بی بیو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں ! اچھی بات کہو ۔ یعنی از اول تا آخر کوئی خاتون ایسی نہیں کہ وہ تمہاری مثل ہو سکے ۔ قیا مت تک آنے والے تمام مومنین و مومنات مسلمین و مسلمات کی انہیں مائیں بنادیاگیاہے ۔ ارشادربی ہے:
{النبی اولی بالمومنین من انفسھم وازواجہ امھتہم } یہ نبی ایمان داروں کی جانوں سے زیادہ ان کا مالک ہے اور اس کی بیو یاں ان کی مائیں ہیں۔(پارہ:21 سورہ : الاحزاب )
سب سے پہلے ام المؤمنین ہونے کا شرف جس عظیم خاتون کو حاصل ہے وہ سلطان صدق و صفا سیدہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا ہیں۔ جو نبی مکرم فخر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ اور اس امت کی پہلی ماں ہیں ۔ اور آپ کو جملہ ازواج مطہرات میں اولیت اور فضیلت حاصل ہے ۔
*حضرت خدیجہ کا نسب اور خاندانی شرافت :*
آپ کا اسم گرامی: خدیجة الکبری ۔ القاب: سیدہ ، طاہرہ، ام فاطمہ۔ ولادت باسعادت : ۵۵۵ عیسوی، عام الفیل سے ۵١ سال قبل، اعلان نبوت سے ۵۵ سال پیشتر ۔ جاےولادت: ام القریٰ مکتہ المکرمہ ۔ والد ماجد : خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی ہیں ۔ حضرت خدیجہ کے جد امجد اسد بن عبدالعزی، "عہدنامۂ حلف الفضول" کے ایک اہم رکن تھے ۔۔ آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت زائدہ بن الاصم تھیں ۔ فاطمہ کی ماں، ہالہ بنت عبدمناف بن قصی تھیں کہ ان کے تیسرے جد ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی جد تھے۔ اس بناپر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے پدری اور مادری نسب کے لحاظ سے کئی واسطوں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نسب تھیں اور دونوں قبیلے قریش سے تعلق رکھتے تھے ۔
*زمانئہ جاہلیت میں بت پرستی سے دوری:*
زمانئہ جاہلیت میں عرب معاشرہ بت پرستی اور کفر و شرک میں مبتلا تھا خانئہ کعبہ ٣٦٠ بتوں کی آماجگاہ بن چکا تھا لیکن اس پرفتن ماحول میں بھی ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو بت پرستی سے فطری طور پر نفرت تھی۔ وہ اس دور کی واحد خاتون تھیں جو کفر و شرک سے دوری اختیار کی ہوئی تھیں۔ اور اسی بنا پر دور جاہلیت ہی میں آپ "طاہرہ" کے لقب سے جانی جاتی تھیں ۔ اس حوالے سے ایک روایت نقل کی جارہی ہے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت خدیجہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : "ای خدیجۃ، واللہ لا اعبد اللات و العزی ، واللہ لا اعبد ابدا ، قال: فتقول خدیجۃ خل اللات خل العزی ، قال: کانت صنمہم اللتی کانوا یعبدون ثم یضطجعون ۔ ( مسند احمد)
اے خدیجہ! بخدا میں لات و عزیٰ کی عبادت کبھی نہیں کروں گا ، خدا کی قسم میں ان کی عبادت کبھی نہیں کروں گا ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواباً کہا: آپ لات کو چھوڑیے ، آپ عزی کو چھوڑیے۔ یعنی ان کا ذکر بھی نہ کیجیے ۔
راوی کہتے ہیں یہ ان کے بتوں کے نام تھے ، جن کی مشرکین عبادت کرکے اپنے بستروں پر لیٹتے تھے۔ یعنی جس زمانے میں لوگ بت پرستی میں مشغول رہا کرتے تھے اس وقت بھی حضرت خدیجہ آسمانی کتابوں پر اعتقاد رکھتی تھیں۔ خانئہ کعبہ میں جاکر خالق کائنات سے اپنی تجارت میں برکت کی دعا کرتیں اور مخصوص وقت نکال کر طواف کعبہ کیا کرتی تھیں۔ مذہبی تعلیمات اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل سے سیکھتی تھیں اور حضرت خدیجہ کے گھروں میں مذہبی محفلیں منعقد ہوتی تھیں۔
*اسلام کی خاتون اول:*
جملہ مسلمانان عالم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مخلوق خدا میں سب سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والی خاتون ہیں۔ اسلام لانے میں آپ پر نہ کسی مرد نے سبقت کی ہے نہ کسی عورت نے۔ "خدیجة اول خلق اللہ اسلم باجماع المسلمین لم یتقدمہا رجل ولا امرأة"۔ ( الکامل ابن اثیر ؛ جلد 2 ، ص: 73 )
یعنی اللہ تعالی کی ساری مخلوق میں سب سے پہلے خدیجہ اسلام لائیں مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ کوئی مرد اور کوئی عورت آپ سے پہلے اسلام نہیں لاۓ ۔
عن ابن شہاب قال کانت خدیجة اول من آمن باللہ و صدق برسولہ قبل ان تفرض الصلاة ( رواہ الحاکم و ابن ابی شیبہ فی المصنف )
امام ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ نماز فرض ہونے سے ہہلے حضرت خدیجہ سب سے پہلی خاتون تھیں جو اللہ پر ایمان لائی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے برحق ہونے کی تصدیق کی ۔
علامہ ابن ھشام رقم طراز ہیں : "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت خدیجہ بنت خویلد ایمان لے آئیں۔ حضور کی تصدیق کی اور رسالت کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ڈھارس بنکر رہیں۔ آپ سب سے پہلے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں ۔ اللہ تعالی نے ان کے ذریعے اپنے محبوب نبی کے بوجھ کو ہلکا کیا جب مخالفین حضور کے ساتھ تلخ کلامی کرتے یا جھٹلاتے تو حضور کو بہت دکھ ہوتا لیکن جب گھر تشریف لاتے تو ام المؤمنین ایسی گفتگو کرتیں کہ غم و اندوہ کے بادل چھٹ جاتے۔ وہ حضور کو ثابت قدمی پر ابھارتیں اس غم کو ہلکا کرتیں۔ حضور کی تصدیق کرتیں اس طرح لوگوں کی مخالفتوں کے باعث دل کو جو ملال اور رنج پہنچتا اس کا ازالہ کر دیتیں" اللہ کی رحمتیں ہو آپ پر ۔ ( السیرة النبویة زینی دحلان ، جلد اول ،ص : 175)
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.