مختصر حیاتِ تیغ علی شاہ علیہ الرحمہ
فتا کے بعد بھی باقی سے شانِ رہبری تیری
ہزاروں رحمتیں ہوں اے امیرِ کارواں تجھ پر
وقت اپنی سرعتِ رفتاری کے ساتھ رواں دواں ہے۔ لیل و نہار کی گردش جاری رہتی ہے، موسم بدلتے ہیں، صبحیں طلوع ہوتی ہیں اور شامیں ڈھل جاتی ہیں۔ سورج ہر روز اپنی آب و تاب کے ساتھ عالم کو منور کرتا ہے اور پھر وقتِ مقررہ پر افقِ مغرب میں روپوش ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اس کارگہِ ہستی میں نسلیں آتی اور رخصت ہوتی رہتی ہیں۔ انسان حیاتِ مستعار کے چند روز گزار کر فرمانِ الٰہی «كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» کے تحت اس دنیائے فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔
مگر تاریخ کے صفحات پر ہر انسان کا نام یکساں طور پر محفوظ نہیں رہتا۔ کچھ لوگ وقت کے گرد و غبار میں گم ہو جاتے ہیں اور کچھ ایسی ہستیاں بھی ہوتی ہیں جن کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی ان کا ذکر دلوں کو منور کرتا، روحوں کو جِلا بخشتا اور نسلوں کو راہ دکھاتا رہتا ہے۔ ان کے اخلاق و کردار، گفتار و رفتار، نشست و برخاست، علمی خدمات، اصلاحی مساعی اور قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں زمانے کے کانوں میں مدتوں گونجتی رہتی ہیں۔ ان کی مجالس کی خوشبو اور صحبت کی تاثیر ان کے وصال کے بعد بھی اہلِ محبت کے قلوب میں باقی رہتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ «فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» کا ایک حسین جلوہ دکھائی دیتا ہے کہ بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو ربِ کریم اسے اپنی یاد کے ساتھ زندۂ جاوید فرما دیتا ہے۔ ایسے ہی مردانِ خدا نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی یاد، دینِ متین کی خدمت اور عشقِ رسولِ اکرم ﷺ کی ترویج میں صرف کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکرِ خیر کو اپنے بندوں کے دلوں اور زبانوں پر جاری فرما دیا۔
انہی پاکیزہ نفوس اور مردانِ حق میں ایک ممتاز مقام غوثِ زماں، ولیِ کامل، شیخ المشایخ، صاحبِ اوصافِ حمیدہ حضرت سرکار سرکانہی حضرت محمد تیغ علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جن کی پوری زندگی شریعت و طریقت، علم و عمل، زہد و تقویٰ، محبت و اخوت اور اصلاح و تربیت کا حسین امتزاج تھی۔
ولادتِ باسعادت اور اسمِ گرامی
حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 1300ھ مطابق 1883ء میں مقام گوریارہ، ضلع مظفرپور، بہار میں ہوئی۔
آپ کا اسمِ گرامی محمد تیغ علی قادری آبادانی تھا۔ آپ کو مختلف روحانی و علمی نسبتوں کے باعث متعدد القابات و خطابات سے یاد کیا جاتا ہے، جن میں شیخ المشایخ، سرکار سرکانہی، غوثِ زماں، قطبِ مظفرپور وغیرہ خصوصیت
سے قابلِ ذکر ہیں۔
تعلیم و تربیت
حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم مختلف مکاتب و مدارس میں حاصل فرمائی اور بالآخر مدرسہ عالیہ، کلکتہ سے اپنی علمی منزلیں مکمل کیں۔ علم سے آپ کی محبت محض رسمی نہ تھی، بلکہ مطالعہ آپ کی زندگی کا مستقل معمول تھا۔ کتب بینی کا ذوق بچپن ہی سے طبیعت میں راسخ تھا اور حصولِ علم کے ساتھ ساتھ اس علم کو پختہ کرنے کے لیے مسلسل مطالعہ فرماتے۔
آپ کے پہلے خلیفہ، عارف باللہ حضرت مولانا حنیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ آپ کے شغفِ مطالعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
«"کتب بینی کا شوق ابتدا ہی سے تھا لہٰذا دن کو تو موقع نہیں ملتا، لیکن رات میں بعد نمازِ عشا جب سب لوگ سو رہتے، آپ کتب بینی میں مشغول ہو جاتے۔ درسیات کی تمام کتابیں جو پڑھ چکے تھے، سلسلہ وار ان کا مطالعہ کرتے۔ ان کے علاوہ دینیات کی دوسری کتابیں بھی مطالعہ میں رہتیں۔ حتیٰ کہ علومِ ظاہری میں بھی آپ کامل تھے۔"»
(انوارِ قادری، از حافظ حنیف علیہ الرحمہ، ص: 16)
یہی علمی انہماک آگے چل کر آپ کی شخصیت میں علم و معرفت کی ایسی پختگی کا سبب بنا جس نے آپ کی اصلاحی و تربیتی خدمات کو غیر معمولی وقار عطا کیا۔
بیعت و ارادت
اسلافِ صالحین کی روایت پر عمل کرتے ہوئے حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک شیخِ کامل کا دامن تھاما اور سلسلۂ عالیہ قادریہ مجددیہ آبادانیہ میں حضرت شیخ عبد السمیع مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت فرمائی۔
آپ کا شجرۂ طریقت حضرت مجددِ الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتا ہے اور وہاں سے سلسلۂ طریقت، پیرانِ پیر، روشن ضمیر، عالم کے دستگیر، غوثِ اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ تک اور پھر حضرت سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے وسیلے سے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ تک جا پہنچتا ہے۔
شجرۂ طریقت
حضرت تیغ علی
عن مولانا سمیع احمد مونگیری
عن حافظ فرید الدین آروی
عن حاجی شاہ دیدار علی خان غازی پوری
عن شاہ عبدالعلیم لوہاری
عن حافظ احسان علی پاک پٹنی
عن صوفی شاہ آبادانی
عن صوفی میر محمد زکریا
عن صوفی میر محمد سندھی
عن صوفی شاہ محمد قریشی عباسی لاہوری
عن صوفی شاہ محمد خاں لودھی
عن بابا پیر محمد خاں لودھی
عن خواجہ آدم الشریف الحسنی بنوری
عن حضرت مجدد الفِ ثانی علیہم الرحمۃ والرضوان۔
یہ شجرہ محض ناموں کا تسلسل نہیں بلکہ روحانی فیض، تربیت، تزکیہ اور نسبتِ حق کا وہ مبارک سلسلہ ہے جس نے نسل در نسل دلوں کو معرفتِ الٰہی اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے منور کیا۔
اجازت و خلافت
حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کو متعدد اکابر و مشائخ سے اجازت و خلافت حاصل ہوئی، جن میں خصوصیت سے:
- حضرت مولا علی لعل گنجوی رحمۃ اللہ علیہ
- حضرت صوفی شاہ حکیم سید جلال الدین جڑھوا شریف، حاجی پور، ویشالی، متوفیٰ 1366ھ
- حضرت صوفی محی الدین قادری مجیبی پھلواروی رحمۃ اللہ علیہم
قابلِ ذکر ہیں۔
آپ کی صحبت، تربیت، اذکار و وظائف اور نگاہِ کیمیا اثر نے آپ کے خلفاء کی ایسی جماعت تیار کی جو علم و عمل، اخلاق و کردار، اخوت و محبت اور دینداری و پاسداری میں آفتاب و ماہتاب کی مانند روشن تھی۔ آپ کے چھتیس خلفاء نے مختلف علاقوں میں آپ کے مشن کو آگے بڑھایا اور دین و سنیت کی شمع کو فروزاں رکھا۔
حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت میں علم کی روشنی اور عمل کی حرارت یکجا تھی۔ آپ شریعت کے پابند، طریقت کے شناسا، حقیقت کے رمز شناس اور معرفت کے صاحبِ ذوق بزرگ تھے۔ آپ کی زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی محض دعویٰ نہیں بلکہ عملی زندگی کا نمایاں وصف تھی۔
آپ کا اخلاقِ کریمانہ دلوں کو فتح کر لیتا تھا۔ عفو و درگزر آپ کی طبیعت کا نمایاں وصف تھا۔ عشاقِ رسول ﷺ کے لیے آپ کا دل سراپا رحمت تھا، جبکہ دین و حرمتِ رسالت کے معاملے میں آپ غیرتِ ایمانی کے پیکر تھے۔
کسی شخص سے ناراض بھی ہوتے تو سخت کلامی کے بجائے نہایت شفقت سے صرف اتنا فرماتے:
اور بس! اس مختصر جملے میں اصلاح بھی ہوتی، محبت بھی اور تربیت بھی۔ آپ دل توڑنے کے بجائے دل جیتنے کے قائل تھے۔
سادگی، عبادت اور ذکر و فکر
حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی سادگی و انکساری کا آئینہ تھی۔ آپ کے شب و روز ذکرِ الٰہی، درود و سلام، تلاوتِ قرآن، دعا و استغفار اور عبادت و ریاضت سے معمور رہتے۔
آپ کی زبان اکثر درودِ پاک سے تر رہتی۔ روزانہ صبح تقریباً دس بجے غسل کے بعد تلاوتِ قرآنِ پاک آپ کے معمولات میں شامل تھی۔ بزرگوں کے کلام سے بھی آپ کو خاص شغف تھا اور کبھی کبھی ان کے کلام کو گنگناتے۔ گفتگو میں مادری زبان کو ترجیح دیتے اور تصنع و تکلف سے ہمیشہ دور رہتے۔
آپ کے مزاج میں ایسی فطری سادگی تھی جو عظمت کے باوجود آپ کو عوام سے قریب رکھتی تھی۔
روایات میں آپ کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ آپ مادرزاد ولی تھے اور عہدِ طفولیت ہی سے والدہ کی خدمت اور ادب و احترام کا غیر معمولی اہتمام فرماتے تھے۔
مسلک و مشرب
حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ مسلکاً سنی، حنفی، بریلوی؛ مشرباً قادری اور عقائد میں ماتریدی تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دین و سنیت کی خدمت، شریعتِ مطہرہ کی پاسداری اور محبتِ رسولِ اکرم ﷺ کے فروغ کے لیے وقف فرمادی۔
آپ نے مساجد، مدارس، خانقاہوں اور درس گاہوں کے قیام و فروغ کے ذریعے دینی تعلیم کے چراغ روشن کیے اور ایک ایسی جماعت تیار کی جس نے بعد میں مختلف علاقوں میں دین و سنیت کی خدمت کا فریضہ انجام دیا۔
بے شمار گم گشتگانِ راہ کو راہِ راست نصیب ہوئی، بہت سے بھٹکے ہوئے دلوں کو معرفتِ الٰہی کی دولت ملی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی وہ چنگاری روشن ہوئی جس نے ان کی زندگیوں کا رخ بدل دیا۔
ان کا سایہ ایک تجلی، ان کا نقشِ پا چراغ
جس طرف گزرے ادھر ہی روشنی ہوتی گئی
شمالی بہار میں دینی خدمات
یہ کہنا مبنی بر حقیقت معلوم ہوتا ہے کہ شمالی بہار میں دین و سنیت، شریعت و طریقت، علمی وقار اور عملی نور کے فروغ میں حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا ایک نمایاں حصہ ہے۔
آپ نے اپنے قول و عمل سے لوگوں کو دین کی طرف متوجہ کیا، علماء و خلفاء کی ایک مخلص جماعت تیار کی اور اپنی خانقاہی و اصلاحی سرگرمیوں کے ذریعے ایک ایسا روحانی ماحول پیدا کیا جس کے اثرات بعد کی نسلوں تک محسوس کیے گئے۔
آپ کی خانقاہ محض ذکر و اذکار کی جگہ نہ تھی بلکہ اصلاح، تربیت، علم، محبت اور خدمتِ دین کا مرکز تھی۔
حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی کا اصل امتیاز کرامت نہیں بلکہ استقامت علی الدین تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کے ہاتھ پر کبھی کبھی ایسے واقعات بھی ظاہر فرماتا ہے جو لوگوں کے لیے باعثِ عبرت و عقیدت ہوتے ہیں۔
اسی سلسلے میں ضلع غازی پور کے رہنے والے تیغی سلسلے کے ایک مرید شاہ محمد طیب خاں اپنی سرگزشت میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔
ان کے بائیں پاؤں میں ایک ناسور ہوگیا تھا۔ بہت علاج کرایا، بڑے بڑے ڈاکٹروں اور جراحوں سے رجوع کیا، مگر افاقہ نہ ہوا۔ علاج کی غرض سے کلکتہ پہنچے تو وہاں کے ڈاکٹروں نے بھی اسے لاعلاج قرار دے دیا۔ ایک ڈاکٹر نے یہاں تک کہہ دیا کہ پاؤں کاٹنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
اسی دوران حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کی خبر پہنچی۔ وہ عرسِ چہلم میں شرکت کے لیے زخمی پاؤں کے ساتھ آپ کے مزارِ اقدس پر حاضر ہوئے۔ عقیدت کے جذبے سے مزارِ مبارک کی خاک حاصل کی اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ وہاں پہنچ کر اس خاک کو پانی میں گھول کر زخم پر لگاتے رہے۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند ہی دنوں میں زخم مندمل ہونے لگا اور بالآخر وہ صحت یاب ہوگئے۔ جب دوبارہ کلکتہ پہنچ کر ڈاکٹروں کو اپنی صحت یابی کا واقعہ سنایا تو وہ بھی حیرت زدہ رہ گئے۔
یہ واقعہ شخصیات، ص 157-158 میں مذکور ہے۔
کرامت کا اصل مقصد محض حیرت پیدا کرنا نہیں، بلکہ بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، اولیائے کرام کی نسبت اور دین کی عظمت کا یقین مزید مستحکم کرنا ہے۔
وصال
آپ علیہ الرحمہ 78 سال کی عمر میں 29/ ربیع الاول 1378ھ بمطابق 1958ء کو اس دارفانی سے دار بقا کی طرف رحلت فرماۓ۔ خانقاہ آبادانیہ سرکانہی شریف ضلع مظفر پور میں آپ کا مزار اقدس مرجع خلائق ہے وہیں آپ کی والدہ ماجدہ اور اہلیہ صاحبہ کی قبر انور بھی ہے۔
حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مقدسہ کو اگر چند الفاظ میں سمیٹنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی زندگی علم و فضل، شریعت و طریقت، حقیقت و معرفت، محبت و اخوت، شرافت و لطافت، صبر و شکر، تواضع و انکساری، زہد و تقویٰ اور تسلیم و رضا کا حسین مرقع تھی۔
آپ کی ذات میں علم تھا تو عمل بھی تھا، شریعت تھی تو طریقت بھی، ذکر تھا تو فکر بھی، محبت تھی تو غیرتِ ایمانی بھی، اور روحانیت تھی تو خدمتِ خلق بھی۔
آپ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ولی وہی ہے جس کی نسبت بندے کو رب سے جوڑ دے، جس کی صحبت دل کو نرم کرے، جس کی مجلس ایمان کو تازہ کرے اور جس کی زندگی سنتِ مصطفیٰ ﷺ کا عملی نمونہ بن جائے۔
آج اگرچہ حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ ظاہری طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کا فیض، ان کی تعلیمات، ان کے خلفاء کی خدمات اور ان سے وابستہ عقیدت مندوں کے دلوں میں ان کی یاد آج بھی زندہ ہے۔ یہی صالحین کی وہ زندگی ہے جو ظاہری حیات کے اختتام کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت سرکار سرکانہی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کے فیوض و برکات سے ہمیں مالا مال فرمائے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، بزرگانِ دین کی محبت و وفاداری ہمارے دلوں میں ہمیشہ قائم رکھے اور ہمیں شریعت و سنت پر استقامت نصیب فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔
از: محمد وسیم خان اشرفی جالوی
چیرمین: قطبیہ ایجو کیشنل ویلفیر ٹرست،
بانی : این ایچ اکیڈمی کولکاتا۔
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.